عالمی سطح کا لیڈر بننے کے خواہشمند ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی کانفرنس بلائی تو یاسر عرفات اور معمر قذافی سمیت درجنوں اسلامی ممالک کے لیڈر پاکستان آگئے مگرایران نے اس موقع پر کیا کہہ کر شرکت سے انکار کردیا ؟

لاہور (نیوز ڈیسک) بھٹو نے ایسے لاتعداد مقاصد کے لیے اسلامی کانفرنس تو بلا لی لیکن اس کانفرنس میں بھی وہ مسلمان ملکوں کے مسلمان کہلانے والے سیکولر لبرل بادشاہوں اور روس نواز جمہوری حکمرانوں کو اکٹھا نہ کر سکا۔ پوری ’’امت‘‘ میں سے ایران نے شامل ہونے سے انکار کردیا۔ امریکہ نواز ایران نے

ایسی کسی میز پر بیٹھنے سے انکار کیا جس میں روس نواز لیبیا کا قذافی موجود ہوگا۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کانفرنس ختم ہوئی‘ بھٹو نے قذافی کے ساتھ فیروز پور روڈ پر واقع کرکٹ سٹیڈیم میں جلسہ کیا اور سٹیڈیم کا نام بھی قذافی سٹیڈیم رکھ دیا گیا۔ تالیوں کی گونج میں بھٹو فخر ایشیا اور اسلامی دنیا کا قائد بن گیا۔ بھٹو کے دوست پیلو مودی نے اپنی کتا ب’’زلفی مائی فرینڈ‘‘ میں لکھا ہے کہ جب میں نے اسے کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پوچھا کرتا کہ ’’کیا تم پاکستان کی قیادت کا خواب دیکھتے ہو‘‘ تو وہ کہتا پاکستان میرے لیے بہت چھوٹا میدان عمل ہے‘ میں زیادہ سے زیادہ عالمی اور کم از کم علاقائی لیڈر کی حیثیت سے ابھرنا چاہتا ہوں۔ بھٹو کا یہ خواب تو پورا ہوگیا لیکن جب تک اسلامی کانفرنس کی یہ تنظیم قائم ہے یار لوگوں کو دشنام دینے کا بہانہ ضرور ملتا رہے گا۔ کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ پوری دنیا میں اس طرح کی لاتعداد علاقائی تنظیمیں ہیں جو مختلف ملکوں نے مل کر بنائی ہیں جن کی کارکردگی صرف اور صرف ایک گفتگو کے فورم (Debating Club) سے زیادہ نہیں ہے لیکن ان کی افادیت اور کارکردگی پر سوال نہیں اٹھایا۔ خود پاکستان دو بڑی علاقائی تنظیموں کارکن ہے جن میں سے ایک سارک (SAARC) ہے جو 1985ء میں بنی،جس میں بھوٹان‘ بنگلہ دیش‘ بھارت‘ مالدیپ‘ نیپال اور سری لنکا شامل تھے اور 2007ء میں افغانستان کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا۔ دوسری بڑی علاقائی تنظیم اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن (ECO) ہے

جس میں تمام مسلم ممالک ہی شامل ہیں۔ یہ پہلے آر سی ڈی تھی جو ایران‘ ترکی اور پاکستان پر مشتمل تھی‘ پھر اس میں آذربائیجان‘ ازبکستان‘ کرغستان‘ قازقستان‘ تاجکستان‘ ترکمانستان اور افغانستان بھی شامل کرلیے گئے۔ جب کبھی پاکستان پر کوئی افتاد ٹوٹتی ہے‘ کشمیر پر آواز بلند کرنے کی بات ہوتی ہے تو کوئی ان دونوں علاقائی تنظیموں کی طرف انگلی نہیں اٹھاتا۔ وجہ صرف ایک ہے کہ ان کے نام کے ساتھ لفظ اسلامی نہیں لکھا ہوا اور ایسا کرنے سے کچھ کلیجوں میں ٹھنڈ نہیں پڑتی۔ دنیا بھر میں جتنی بھی علاقائی تنظیمیں موجود ہیں کوئی بتا سکتا ہے کہ ان کی کارکردگی کیا ہے۔ انہوں نے اپنے علاقوں کے کون سے مسئلے حل کرائے‘ کون سی جنگیں رکوائیں‘ کتنے ملکوں کو قحط‘ غربت اور افلاس سے نجات دلائی۔ افریقن یونین میں الجزائر سے لے کر زمبابوے تک پورا افریقہ شامل ہے لیکن کیا وہ لیبیا پر دھاوا رکوا سکی۔ صومالیہ کی لڑائی رکوا سکی‘ روانڈا کا انسان کشی ختم کروا سکی۔ اسی طرح 1967ء میں قائم ہونے والی آسیان (ASEAN) جس میں برونائی سے لے کر ویت نام تک تمام علاقائی ملک شامل ہیں اوراب تو پاکستان بھی اس کا ممبر ہے‘ اس کا کیا کردار ہے‘ کیا وہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی رکوا سکی۔ جنوبی امریکہ کے ممالک کی تنظیم الادی (ALADI) نے کیا کیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک تنظیم ایسی بھی ہے جسے خالصتاً قومت کی بنیاد پر 1945ء میں قائم کیا گیا۔ اسے عرب لیگ کہتے ہیں۔ یہ صرف ایک دفعہ حرکت میں آئی تھی جب چودہ مئی 1941ء کو اسرائیل قائم ہوا تھا تو اس نے 15 مئی 1948ء سے 10 مارچ 1949ء تک نو ماہ تین سال اور دو دن لڑائی لڑی تھی۔ اس لڑائی میں مصر‘ اردن‘ عراق‘ شام‘ لبنان‘ سعودی عرب اور یمن کے علاوہ کوئی دوسرا اسلامی ملک شامل نہیں ہوا تھا۔ ترکی اور ایران نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔ اس لڑائی میں اردن نے مغربی کنارے کا علاقہ فتح کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے عرب لیگ قائم ہے لیکن وہ کسی عرب ملک میں بدامنی اور بیرونی مداخلت کو رکوا سکی۔ لیکن اسے کوئی کچھ نہیں کہتا کیونکہ اس کے نام کے ساتھ لفظ اسلامی نہیں لکھا ہوا۔ آج بھی اگر اسلامی کانفرنس سے لفظ اسلامی اتار کرتنظیم برائے مڈل‘ سینٹرل و جنوبی ممالک رکھ دیا جائے توساری زبانیں گنگ ہو جائیں‘ سب کو قرار آ جائے‘ سب چین سے بیٹھ جائیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *