پاکستان اور چین ایک پیج پر آگئے ، بھارت اکیلا ہو گیا۔۔۔۔۔اب اگر انڈیا نے پاکستان یا چین میں سے کسی کی طرف بھی میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ پاک فوج کے ایک سابق افسر کی پیشگوئیاں

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ اس تناظر میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر پاکستان پورے سیاچن گلیشیئر پر قبضہ کرنا چاہے تو وہ گلگت۔ بلتستان کے زمینی راستے سے وادیء شاکس گام سے ہوتا مشرقی لداخ میں ان چینی ٹروپس سے ملاپ کر سکتا ہے

نامور سابق آرمی افسر اور مشہور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جو اس متنازعہ علاقوں میں صف بند ہیں۔ اگر انڈین میڈیا اس بات پر خوف زدہ ہے کہ چین کی اس علاقے میں آمد اس کی ایک سڑٹیجک چال ہے اور اگر مستقبل میں کبھی لڑائی ہوئی تو انڈیا کو پاکستان اور چین کی مشترکہ فورسز کا مقابلہ کرنا پڑے گا تو اس کی پریشانی بے وجہ نہیں۔اگر ایسا ہوا تو انڈیا کو دو محاذوں پرلڑائی کا سامنا ہو گا…… ایک شمال مشرق میں سکم اور بھوٹان کا محاذ اور دوسرا شمال مغرب میں لداخ اور سیاچن کا محاذ۔بعض مبصر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر چین کے فوجیوں نے پاکستان سے ملاپ کرنا ہے تو ان کو لداخ کے روٹ کی ضرورت نہیں کیونکہ تبت سے سنکیانگ تک ایک کشادہ سڑک پہلے سے موجود ہے۔چین اسے استعمال کر سکتا ہے اور اسے درۂ قراقرم کی راہ سے سنکیانگ اور پاکستان سے ملاپ کرنے کی ضرورت نہیں۔شائد اکثر قارئین نے اس چہارگانہ ملاقات کا نوٹس نہیں لیا جو چین، پاکستان، افغانستان اور نیپال کے وزرائے خارجہ کے درمیان گزشتہ ماہ ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں یہ طے کیا گیا کہ اگر ضرورت ہوئی تو نیپال کی زمینی بندش (Land Locking) کو ختم کرنے کے لئے نیپال کو پہلے سنکیانگ اور پھر پاکستان کے راستے (CPECکے ذریعے) بحیرۂ عرب تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ یہ گویا ٹرانس ہمالیائی اقتصادی کاریڈار ہو گا جو نیپال کو تبت اور سنکیانگ کی راہ، پاکستان سے ملائے گا۔ اس ملاقات میں چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی (Wang yi) نے نیپال اور افغانستان کو یہ نوید بھی دی

کہ وہ CPEC کے ذریعے گوادر پورٹ سے استفادہ کر سکتے اور اپنی گلوبل تجارت کا ایک نیا راستہ کھول سکتے ہیں۔ افغانستان نے تو پچھلے دنوں گوادر بندرگاہ سے استفادہ بھی شروع کر دیا ہے۔ایک بڑا تجارتی شپ گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہونے کے بعد افغان کارگو کے کنٹینروں کو CPEC کے ایک مغربی روٹ سے چمن اور طورخم پہنچا چکا ہے۔ جو قارئین (نیٹ پر) ”دی نیویارک ٹائمز“ اور واشنگٹن پوسٹ کا مطالعہ کرتے ہیں ان کے لئے مائیکل کجل مین (Michal Kugelman)کا نام اجنبی نہیں ہوگا۔ اس کے مضامین بڑی باقاعدگی سے ان دونوں اخباروں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔وہ واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک (ولسن سنٹر) کا ایک اہم رکن بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ نیا نقشہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو (BRI) کو ایک اضافی سپورٹ اور سیاسی کور (Cover) فراہم کرتا ہے۔ یہ سپورٹ گلگت۔ بلتستان میں ان شاہراہوں کو میسر ہو گی جو ان علاقوں میں بنائی جانے والی ہیں۔دو ماہ قبل (جون 2020ء میں) پاکستان نے دریائے نیلم پر تین بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کا ٹھیکہ چین کو دیا ہے۔ دریائے نیلم پاکستان اور انڈیا کے درمیان مغربی سرحد بناتا ہوا دریائے جہلم میں جاگرتا ہے۔سیاچن گلیشیئر تازہ پانی کا ایک بڑا وسیلہ اور ذخیرہ ہے۔ تبت کے علاقے سے ایسے کئی دریا بھی نکلتے ہیں جو بنگلہ دیش اور انڈیا تک جاتے ہیں۔ چین ان کا پانی روک کر اتر کھنڈ اور لداخ کے علاقوں کو سیلابوں کا شکار کر سکتا اور انڈیا کی معیشت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں چین کی طرف سے پانی کو بطور ایک ” ہتھیار“ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں …… 1965ء کی لڑائی میں کھیم کرن محاذ پر 7ستمبر کو پاکستان نے انڈیا کے خلاف جب جوابی یلغار (Counter Offensive) لانچ کی تھی تو انڈیا کے 4ماؤنٹین ڈویژن نے امرتسر کے علاقے میں دریائے بیاس کا پانی چھوڑ کر پاکستان آرمی کا آرمر ایڈوانس روک دیا تھا۔ پاکستان نے جو جدید پیٹن ٹینک امریکہ سے حاصل کئے تھے وہ اس سیلاب میں بُری طرح پھنس گئے اور پاکستان کے آرمر کو بہت نقصان پہنچا تھا…… تاریخ اس قسم کے ”سیلابی ہتھیاروں“ کے استعمال سے بھری پڑی ہے اس لئے مزید مثالیں دینے سے گریز کرتا ہوں۔اب اس موضوع پر آخری سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا اس نئے سیاسی نقشے کو آنے والی کسی چوتھی پاک بھارت لڑائی کا پیش خیمہ سمجھا جائے یا پاکستان کی طرف سے چین کے BRIکو سپورٹ کرنے کا صرف ایک اشارہ گردانا جائے۔ یہ امر تو طے ہے کہ لڑائی کا آغاز جب بھی ہوا، بھارت کی طرف سے ہوگا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو انڈین آرمی کے مورال پر وہ داغ ہے جو 15جون کو اس کے 20فوجیوں کی موت پر اس کے دامن پر لگا۔ انڈیا اپنے اس ”گھائل مورال“ کا اندمال کرنا چاہے گا…… اور دوسری وجہ اس کی عسکری قیادت میں دور اندیشی کا فقدان ہے۔ اس کی عسکری قیادت، جنرل بپن راوت کے روپ میں 26فروری 2019ء کو بھی تھی اور آج بھی وہی قیادت ہے۔ ایل او سی کو عبور کرکے بالاکوٹ پر فضائی اٹیک کرنا اس عسکری قیادت کی ایک ایسی بلنڈر تھی جو دنیا کو شائد تیسری اور آخری لڑائی کی طرف لے جا سکتی تھی۔ وہ تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بصیرت اور سٹرٹیجک ویژن تھا جس نے جوابی وار کرنے میں نہایت ”عظیم“ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ جنرل بپن راوت، اجیت دوول (نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر) اور نریندر مودی کی مثلث کا کوئی ضلع اور کوئی زاویہ بھی مستقیم نہیں …… اس بار تو چین نے صرف 20انڈین مارے اور ”بس“ کر دی، اگلی دفعہ وہ شائد ایسا نہ کرے…… وجہ یہ ہے کہ اس نئے پاکستانی پولیٹیکل میپ کے سٹرٹیجک مضمرات کا معمار اکیلا پاکستان نہیں، چین بھی ہے!

Sharing is caring!

Comments are closed.