احمد نورانی کے سنگین الزامات! عاصم باجوہ بھی میدان میں آگئے، حقائق سامنے لے آئے، تنقید کرنے والوں کو سانپ سونگھ گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ پر صحافی احمد نورانی کے سنگین الزامات کا معاملہ، چیئرمین سی پیک بھی میدان مین آگئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق جولائی میں جب حکومت نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی اور مشیران کے

اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کیں تو سوشل میڈیا پر ان کو خوب پذیرائی ملی اور یہ عوام کے دلچسپی کا مرکز بنی رہیں۔ معاونین خصوصی کے اثاثوں اور شہریت کے معاملے پر کوئی تو دفاع کرتا نظر آیا جبکہ ایک مخصوص ٹولہ تنقید بھی کرتا رہا۔یہ تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پاک فوج کے شعبہ آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ اور بعد میں فوج کے سدرن کمانڈ کی قیادت کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ، جو کہ اب وزیر اعظم کے معاون خصوصی اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں کے اثاثہ جات پر بالخصوص کڑی تنقید کی گئی۔اسی معاملے پر گزشتہ روز 27 اگست کو صحافی احمد نورانی کی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ ‘فیکٹ فوکس’ نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تو سوالات اور تنقید کا ایک ایسا پنڈورا باکس کھلا جو کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور اس کے بعد باجوہ لیکس کے نام سے ہیش ٹیک ابھی تک ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔فیکٹ فوکس کی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اورلیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔اپنے مضمون میں احمد نورانی لکھتے ہیں کہ عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی 4 ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرنچائز ریسٹورنٹس اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں۔ احمد نورانی کی رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کرائی گئی اثاثہ جات کی فہرست میں معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ نے اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقاعدہ ‘نہیں ہے‘ لکھا گیا ہے۔احمد نورانی نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا اپنے شوہر کے بھائیوں کے قائم کردہ باجکو گروپ کے تمام کاروباروں میں ان کے ساتھ برابر کی حصہ دار اور مالک ہیں۔فیکٹ فوکس کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عاصم باجوہ کے بیٹوں نے بھی اس گروپ میں 2015 میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان اور امریکہ میں مزید نئی کمپنیوں کی بنیاد اس وقت رکھی جب ان کے والد آئی ایس پی آر کے سربراہ تھے اور پھر بعد میں کمانڈر سدرن کمانڈ بلوچستان بن گئے تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ

ماہ جاری کیے گئے اثاثہ جات کی فہرست میں عاصم سلیم باجوہ نے اپنی اہلیہ کے نام پر خاندانی کاروبار میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی اور اس حلف نامے کے آخر میں تصدیق کی کہ میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔احمد نورانی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کی سرکاری دستاویزات کے مطابق عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا امریکہ میں 13 کمرشل جائیدادیں ہیں، جن میں 2 شاپنگ سنٹر بھی شامل ہیں اور وہ ان کی مشترکہ مالکن ہیں اور تین ممالک میں 82 کمپنیوں میں ان کے سرمائے کی کل مالیت تقریباً 40 ملین ڈالر ہے جس کی وہ عاصم باجوہ کے بھائیوں کے ساتھ برابر کی مالکن ہیں۔احمد نورانی نے ایک بڑا دعویٰ اس صورت میں بھی کیا ہے کہ پاکستان میں کاروباری کمپنیوں کے نظام کی نگرانی کرنے والے ادارے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نے اپنی آفیشل ویب سائٹ سے لیفٹننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیتی کمپنیوں کا ڈیٹا غائب کرنا شروع کر دیا ہے۔احمد نورانی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے ان کی اہلیہ کی امریکہ میں جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ ‘انھوں اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن میں اپنی بیوی کے حوالے سے واضح طور یہ کیوں لکھا کہ انکا پاکستان سے باہر کوئی کاروباری سرمایہ نہیں ہے تو لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے جواب دینے سے گریز کیا۔’فیکٹ فوکس پر مضمون کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *