بھارت کے رافیل طیاروں کو چین کھلونا سمجھ کر ان پر کھڑا مسکرا کیوں رہا ہے ؟ بھارت اور امریکہ دونوں کے ہوش اڑا دینے والا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) حال کی حقیقت یہ ہے کہ لداخ، چین کے موقف کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ یہ صدیوں سے سطح مرتفع تبت کا اٹوٹ انگ تھا جسے انڈیا نے 1947-48ء میں ہندوستان میں شامل کرنے کی بجائے اسے ایک خصوصی حیثیت دے دی۔ تاکہ اس خطے کی آبادی یہ فیصلہ کرے

کہ اس نے کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا ہے۔ نامور سابق آرمی افسر اور مشہور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔چین کا موقف رائے شماری والا موقف نہیں۔ اس کا موقف یہ ہے کہ یہ علاقہ (لداخ) تو اول روز سے تبت کا حصہ ہے اور اسے انڈیا کو واپس کرنا ہوگا۔ اور جب انڈیا نے اس پر سڑکیں اور ائر فیلڈز بنا دیں اور اپنے ٹروپس یہاں لا کر سٹیشن کر دیئے تو آپ نے دیکھا کہ انڈیا کا حشر کیا ہوا؟ 20سولجر کی نفری ایک پلاٹون مائنس ہوتی ہے۔ انفنٹری پلاٹون میں 10،10 سولجرز کے تین سیکشن ہوتے ہیں اور دو سیکشنوں کی نفری جب چینی فوج کے ہاتھوں ماری گئی تو تب انڈیا کو ہوش آیا کہ ”متنازعہ علاقے“ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔انڈیا اب ہاتھ پاؤں ما رہا ہے۔ بھاری ہتھیار لداخ میں جمع کئے جا چکے ہیں۔ رافیل طیاروں کا جو غلغلہ پچھلے دنوں انڈین میڈیا نے مچایا تھا، وہ اب بھی جاری ہے۔ انڈین جرنیل اور ائر مارشل ان پانچ رافیل طیاروں کو ”گیم چینجرز“ کا خطاب دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ 5طیارے لداخ کی ”متنازعہ حیثیت“ کا فیصلہ انڈیا کے حق میں کر دیں گے……اللہ اللہ خیر سلا…… اور چین چپ چاپ کھڑا مسکرا رہا ہے۔ اس کا میڈیا تو انڈیا پر نہیں امریکہ پر فوکس کئے ہوئے ہے۔ جنوبی چین کا سمندر اور تائیوان جزیرے کی ملکیت اس کے نزدیک امریکہ کے ساتھ وجوہاتِ نزاع ہیں۔ مشرقی لداخ یا شمالی لداخ (دولت بیگ اولدی وغیرہ) چین کے ہاں

فیصلہ شدہ علاقے اور موضوعات سمجھے جاتے ہیں۔لداخ اگرچہ1948ء سے جموں اور کشمیر کا حصہ سمجھا جا رہا ہے لیکن لداخ کی ڈویلپمنٹ پر آج تک کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی حالانکہ دیکھا جائے تو رقبے کے لحاظ سے لداخ، ریاست جموں و کشمیر کا 65%ہے اور باقی جموں و کشمیر کا رقبہ اس مقبوضہ ریاست کا35%ہے۔ مقبوضہ ریاست کے بجٹ کا صرف 2 فیصد لداخ کو ملتا رہا ہے کیونکہ اس کی آبادی بہت کم (274000) ہے۔ یہ بجٹ آبادی کو مدنظر رکھ کر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے علاقے کی ڈویلپمنٹ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اکیلے لیح کا رقبہ 45000مربع کلومیٹر ہے اور آبادی کی اکثریت بھی یہاں مقیم ہے۔ چین کے ساتھ لگنے والی سرحد پر کوئی آبادی نہیں کیونکہ انفراسٹرکچر ہی نہیں۔ اور اگر ہو بھی تو موسم کی شدت کی وجہ سے صرف سال کے چار پانچ ماہ (مئی تا ستمبر) ایسے ہیں جن میں سرحدی علاقوں کی آبادیاں گزر بسر کر سکتی ہیں۔ آبادی کی اکثریت اسلام کی پیروکار ہے یا بدھ مت کی ہے اور ہندوؤں کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین آبادی کے تناظر میں بھی اس علاقے کو انڈیا کا حصہ نہیں سمجھتا۔جب سے بھارتی حکومت نے ریاست کے خصوصی سٹیٹس کو تبدیل کیا ہے کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ظلم و ستم کے ساتھ ان کی تضحیک بھی کی گئی ہے۔ ٹریبون اخبار میں رادھا کماری کا ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے۔ یہ خاتون ریاست جموں و کشمیر اور سنٹرل حکومت کے درمیان باشندگانِ کشمیر کے

حقوق کے سلسلے میں باہمی مشاورت کا ایک اہم کردار سمجھی جاتی ہے۔ اس کے مطابق آج پوری وادی میں خوف و ہراس کی فضا کا راج ہے۔ مودی حکومت نے کہا تھا کہ سپیشل سٹیٹس کی تنسیخ کے بعد وادی میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔اور دلّی کی مرکزی حکومت ریاست کی ڈویلپ منٹ کا کام بڑی تیزی اور عجلت سے شروع کرے گی۔ رادھا کماری صاحبہ ”دہلی پالیسی گروپ“ کی ڈائریکٹر جنرل بھی ہیں۔ اور امن و سلامتی کے موضوعات میں ان کو ایک تخصص حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ صورت حال پہلے بھی خراب تھی مگر 5اگست 2019ء کے بعد تو اس کی گھمبیرتا میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک ریاست کے مسائل کا حل کیا ہے؟…… ان کا جواب تھا: ”سب سے پہلا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ حکومت کو 4Gسروسز بحال کرنی چاہئیں، تمام سیاسی قائدین کو جیلوں سے رہا کر دینا چاہیے، ریاست کا سابقہ سٹیٹس بحال ہونا چاہیے اور اس کے بعد تمام زیر التوا مسائل کے حل کے لئے ڈائیلاگ ہونا چاہیے“۔رادھا کماری سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ اگر مودی سرکار نے یہ کام کرنے ہوتے اور تصفیہ طلب مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ڈھونڈنا ہوتا تو آرٹیکل 370 کو منسوخ کیوں کیا جاتا، اس کے بعد ظلم و بربریت کی انتہا کیوں کی جاتی، مسلم آبادی کی اکثریت تبدیل کرنے کے اقدامات کیوں کئے جاتے اور ڈومیسائل کے شوشے کیوں چھوڑے جاتے؟میرے نزدیک مسئلہ کشمیر کا حل انڈیا اس وقت تک نہیں ہونے دے گا جب تک لداخ میں چینی ٹروپس آکر خیمہ زن نہیں ہو جاتے۔ دوسرے لفظوں میں انڈوچائنا بارڈر وار آج نہیں تو آنے والے کسی کل میں نوشتہ ء دیوار ہے!(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.