بریکنگ نیوز: احتساب اپنے گھر بھی پہنچ گیا ۔۔۔ عثمان بزدار کے بعد ملک کرامت کھوکھر ، غضنفر عباس چھینہ سمیت پی ٹی آئی کے کون کون سے رہنما نیب کے ہتھے چڑھ گئے ؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی اور وزیر نیب کے ریڈار میں آگئے، نیب نے صوبائی وزیر انصرمجید، ملک کرامت کھوکھر اور غضنفر عباس چھینہ کو طلب کرلیا، ان ارکان اسمبلی پر آمدن سے اثاثے بنانے، خلاف ضابطہ تقرریوں اور تبادلوں کا الزام ہے۔ میڈیا رپورٹس کےمطابق نیب

نے بدعنوانی اور کرپشن الزامات کی شکایات پر حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی اور وزراء کیخلاف بھی گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔نیب نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ملک کرامت کھوکھرتحقیقات کا آغاز کردیا ہے، ملک کرامت کوآمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری کیلئے 13اگست کو طلب کرلیا ہے۔اسی طرح صوبائی وزیر انصر مجید نیازی کو19اگست کو طلب کرلیا گیا ہے۔ انصر مجید نیازی پر خلاف ضابطہ تقرریوں اور تبادلوں کا الزام ہے۔نیب نے پی ٹی آئی رکن پنجاب اسمبلی غضنفر عباس چھینہ کوبھی 17اگست کو طلب کرلیا ہے۔ان پر بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور بدعنوانی کا الزام ہے۔ مزید برآں نیب نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بھی 12 اگست کو کرپشن الزام میں طلب کررکھا ہے۔ وزیراعلیٰ پر شراب کا پرمٹ دینے کا الزام ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نیب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے قریبی عزیر کی سفارش پر شراب کا لائسنس نجی ہوٹل کو جاری کیا ہے جس پر نیب نے ۔وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو اختیارات سے تجاوز کرنے کے کیس میں 12 اگست کو طلب کرلیا ہے عثمان بزدار سے شراب کے لائسنس سے متعلق تفتیش کی جائے گی ۔ دوسری جانب نیب نے اپوزیشن کی ن لیگی کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی کو 11 اگست کو طلب کرلیا ہے۔ نیب حکام نے مریم نواز کی طلبی کا نوٹس اور سوالنامہ جاتی امراء ارسال کردیا ہے۔سوالنامے میں پوچھا گیا ہے کہ جاتی امرا 1440 کینال اراضی کی تفصیلات سے نیب کو بتایا جائے۔ زمین جب خریدی گئی تو ذرائع آمدنی کیا تھے؟ زمین کی خریداری کا طریقہ کیا تھا؟ اراضی کا ٹیکس ادا کیا گیا؟ زمین زرعی یا کمرشل استعمال میں رہی؟ ذرائع کے مطابق مریم نواز پر رائے ونڈ میں خلاف قانون اراضی انتہائی سستے داموں خریدنے کا الزام ہے، شریف خاندان کی جانب سے 2013 میں 3568 کنال اراضی خلاف قانون خریدی گئی اور سب سے زیادہ زمین نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ شمیم بی بی کے نام منتقل ہوئی جو 1936 کنال تھی۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے نام 12 ،12 ایکڑ زمین منتقل ہوئی اور زمین منتقلی میں ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا جبکہ 2015 میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے توسط لاہور کا ماسٹر پلان تبدیل کروایا گیا جس کے تحت شریف فیملی کی زمین کے ارد گرد تمام رقبے کو گرین لینڈ قرار دے دیا گیا جو شریف فیملی کی اراضی کے ارد گرد تعمیرات کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.