پاکستان کا نیا نقشہ ۔۔ اعتراضات کا ایک جائزہ ۔آصف محمودکاکالم

پاکستان کی جانب سے جاری کر دہ نئے نقشے پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات اور طنز کی یلغار دیکھ کر سوچ رہا ہوں اللہ انہیں ہدایت دے، ان کا معاملہ کیا ہے؟ یہ عمران خان کی نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں یا ان کا مبلغ علم اور صلاحیت ہی اتنی ہے کہ دو فقرے اچھال کر ہانپ لیا، دم لے لیا تو چار فقرے اور اچھال دیے۔

دہائی دی جا رہی ہے کہ پاکستان نے نقشہ جاری کر کے اقوام متحدہ میں اپنا ہی مقدمہ کمزور کر لیا ہے کیونکہ کشمیر کا فیصلہ تو ابھی ہوا نہیں اور پاکستان نے بھی بھارت کی طرح اس پر اپنا حق جتا دیا ۔ بھلا کشمیریوں کی مرضی کے بغیر پاکستان کشمیر کو اپنا حصہ کیسے قرار دے سکتا ہے ۔ ساتھ ہی ایک تان سین نیا راگ چھیڑتا ہے کہ پاکستان نے لداخ چین کو دے دیا کیا پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ لداخ کے علاقے پر کسی اور کی ملکیت تسلیم کر لے
طوفان بد تمیزی برپا کر دینے سے پہلے اگر نقشے کو دیکھنے کی زحمت فرما لی جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے نقشے میں تین چیزیں موجود ہیں ۔
اول : بھارت کے اس دعوے کی نفی کی گئی ہے جس میں اس نے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دے رکھا ہے۔
دوم : پاکستان کے اس روایتی دعوے پر اصرار اور تکرار ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔
سوم: یہ بھی نہایت وضاحت سے لکھ دیا گیا ہے کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے۔ نقشے میں دوٹوک انداز میں لکھا ہوا ہے کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔
ناقدین کو شاید پاکستان کے دعوے اور اس کے سیاق و سباق کا علم ہی نہیں ۔ یہ پاکستان کا دعوی ہی تھا جس کے خلاف بھارت اقوام متحدہ گیا تھا ۔ پاکستان کے اس دعوے کی بنیاد یہ دلیل تھی کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں ا ور مہاراجہ عوامی بغات کے بعد سری نگر سے فرار ہو کر حق حکمرانی کھو چکا ہے ۔ سلامتی کونسل نے اگر حق خودارادیت کو تسلیم کیا تو گویا پاکستان کو یہ موقف ایک طرح سے مان لیا کہ مہاراجہ حق حکمرانی کھو چکا ہے اور فیصلہ کرنے کے قابل نہیں

اس لیے اب فیصلہ عوام کریں گے ۔ یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کا عنوان ”پاک بھارت تنازعہ“ ہے۔ پاکستان کا موقف یہی تو ہے کہ کشمیر پر اس کا دعوی ہے اور اس دعوے کی بابت حتمی فیصلہ کشمیریوں کو کرنے دیا جائے۔ بھارت کا معاملہ بالکل اور ہے۔ بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ حق خود ارادیت کے وعدے سے مکر چکا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کر چکا ہے ۔ اس نے شملہ معاہدے کی دھجیاں اڑا دی ہین ۔ اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے ۔ اس نے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے رکھا ہے ۔ اس نے کہین یہ نہیں لکھا کہ حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا ۔ پاکستان اور بھارت کے اقدامات کو ایک نظر سے دیکھنے کے لیے آدمی میں دو میں سے ایک خوبی کا ہونا ضروری ہو۔ اول : وہ جاہل ہو۔ دوم : وہ بد نیت ہو۔ تیسری کوئی صورت نہیں۔
لداخ کا معاملہ بھی واضح ہے۔ پاکستان نے دو نقشے جاری کیے ہیں ۔ ایک سیاسی نقشہ ہے جس میں صرف آؤٹ لائن حد بندی ہے۔ دوسرا نقشہ انتظامی نوعیت کا ہے جس میں مقامات دکھائے گئے ہیں ۔ دونوں نقشوں کو اگر غور سے دیکھیں تو لداخ کے مشرق میں Frontier Undefined لکھا ملے گا ۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ لداخ چین کو دے دیا گیا ہے؟ انگریزی کے دو لفظ بھی کیا فاضل ناقدین پر بھاری پڑ گئے ہیں؟ ہمیں معلوم ہونا چاہیے لداخ کی اپنی تاریخ ہے اور یہ تنازعہ ابھی حل طلب ہے۔ لداخ کبھی تبت کا حصہ ہوتا تھا ۔ ڈوگروں نے1834 میں اسے فتح کر لیا ۔ ڈوگروں کا یہ قبضہ تبت نے اور پھر چین نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔ چین کا ایسا ہے دعوی بلتستان کے کچھ علاقوں پر بھی تھا ۔ 1963میں پاکستان نے اس کا حل یہ نکالا کہ 2000 کلومیٹر چین کو اور 1500کلومیٹر پاکستان کو ملا ۔

چین نے پاکستان کو 700 کلومیٹر کا وہ علاقہ بھی دے دیا جہاں چراگاہیں تھیں اورپاکستان کے باشندے اپنے مویشی لے کر جایا کرتے تھے۔ گویا 2000 کلومیٹر چین کو اور 2200 کلومیٹر پاکستان کو ملا۔ لیکن اس سارے بندو بست میں یہ شرط شامل رکھی گئی ہے کہ حد بندی کا حتمی فیصلہ کشمیر کے حتمی فیصلے کے بعد ہو گا۔
پاکستان نے اس تازہ نقشے میں اگر Frontier Undefined لکھا ہے تو یہ کشمیر فروشی کیسے ہو گئی اور لداخ سے دستبرداری کیسے ہو گئی ۔ پاکستان نے تو گویا اس تنازعے کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دے دیا کہ یہاں بھی سرحد کا تعین اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر کو حق خودارادیت کے ذریعے حتمی طور پر حل نہ کر لیا جائے۔اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟
یہ نقشہ پاکستان کے عزم کا اعلان ہے کہ آرٹیکل 370 کے ختم کر کے کسی کا خیال ہے اس نے کشمیر ہتھیا لیا تو یہ خیال خام ہے۔ کھیل ابھی باقی ہے۔ آج کی دھوپ کل کی چھاؤں ۔ یہ بھارت کی اس واردات کا جواب بھی ہے جو اس نے ”جیو انفارمیشن بل“ کے ذریعے اپنا نقشہ جاری کر کے ڈالی تھی ۔ اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ دکھا کر قرار دیا گیا کہ اس نقشے سے انحراف کی سزا سات سال تک قید اور ایک کروڑ سے ایک سو کروڑ تک جرمانہ ہے۔ بھارت آٗی ٹی کی بری مارکیٹ ہے۔ گوگل نے یہی نقشہ اٹھا لیا اور دنیا یہی سمجھتی رہی کہ کے ٹو اور نانگا پربت بھارت میں ہیں۔
ہم بھی گوگل سے یہی نقشہ لے کر تماشا بنتے رہے۔ نواز شریف تاجکستان گئے تو پیچھے جو نقشہ تھا وہ یہی تھا جس میں آزاد کشمیر بھارت کا حصہ دکھایا گیا ۔ احسن اقبال ایک زمانے میں کالم لکھتے تھے ”وطن کی بات“۔ ان کے لوگو میں جو نقشہ چھپتا تھا اس میں آزاد کشمیر بھارت کا حصہ تھا ۔ ورلڈ بنک نے اسلام آباد میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی کی۔کتاب کا نام تھا South asia’s Turn۔ ہمارے ہی دارالحکومت میں ہونے والی اس تقریب میں جنوبی ایشیا کا جو نقشہ آویزاں تھا س کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھارت کا حصہ تھے۔
اب آ کر ایک اچھا فیصلہ ہوا ہے تو طفلان خود معاملہ کی اچھل کود تھمنے میں ہی نہیں آ رہا۔ جیسے انہیں کسی شیطان نے چھو لیاہو۔

Sharing is caring!

Comments are closed.