مشرقی بحیرہ روم میں نیا تنازع۔!! یورپی یونین کی ترکی کو پابندیوں کی دھمکی، طیب اردگان نے جواباً انقلابی قدم اُٹھا دیا

انقرہ (نیوز ڈیسک) مشرقی بحیرہ روم میں تنازع۔ یورپی یونین کی ترکی کو پابندیوں کی دھمکی، ترکی نے مسترد کردی۔ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے ترکی کو مشرقی بحیرہ روم میں یونان اور قبرص سے کشیدگی میں کمی تک سخت معاشی اقدامات سمیت نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یورپی یونین کے اعلیٰ سطح کے سفارتکار جوزف بوریل نے کہا کہ بلاک ‘مذاکرات کے لیے سنجیدہ موقع’ فراہم کرنا چاہتا ہے، لیکن اس تنازع میں اپنے رکن ممالک یونان اور قبرص کی حمایت میں ثابت قدم رہے گا۔ ترک ساحلوں کے قریب چھوٹے جزیروں کو خصوصی معاشی زون قررا دینے کی یونان کی کوششوں کی ترکی مستقل مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ بحیرہ روم میں سب سے طویل ساحل کے حامل ملک ترکی کا ماننا ہے کہ یہ ان کے مفادات کی نفی کرتے ہیں۔ ترکی نے یہ بھی کہا ہے کہ قبرص کے قریب توانائی کے وسائل کو ترک پیٹرولیم کو لائسنس دینے والے ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) اور جنوبی قبرص کی یونانی قبرصی انتظامیہ کے درمیان منصفانہ طور پر مشترکہ طور پر تقسیم ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے برلن میں یونان کی حمایت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے جوزف بوریل نے کہا کہ یورپی یونین کے اقدامات کا مقصد ترکی کی متنازع پانیوں میں قدرتی گیس کی کھوج کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے، جبکہ ان اقدامات میں افراد، بحری جہازوں اور یورپی ساحلوں کے استعمال پر پابندی شامل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ممکنہ پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم سیکٹرل سرگرمیوں سے متعلق اقدامات تک جاسکتے ہیں، جہاں ترکی کی معیشت کا تعلق یورپ کی معیشت سے ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘یورپی یونین ان تمام چیزوں پر توجہ دے گا جو ان سرگرمیوں سے متعلق ہیں جنہیں ہم قانونی سمجھتے ہیں۔’ دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے اس موقف کا کوئی جواز نہیں ہے اور یونان کے بحری دعوے مسترد کر دیے۔ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اَکسوئے نے کہا کہ ‘یہ یورپی یونین کی حدود سے باہر ہے کہ وہ ہمارے اپنے براعظم کی حدود میں ہماری ہائیڈروکاربن سرگرمیوں پر تنقید کرے اور اسے روکنے کا مطالبہ کرے۔’

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *