متاثرہ خاتون مسلسل دعا پڑھ رہی تھیں اور وہ اپنے بچوں کو ساتھ ساتھ کیا کہہ رہی تھیں ؟ پوری قوم کو افسردہ کر دینے والی تفصیلات

اسلام آباد (ویب ڈیسک )موٹروے پر پیش آنے والے دلخراش واقعے نے پورے پاکستان کو غمزدہ کر دیا ہے ، متاثرہ خاتون کیس میں پولیس ابھی تک ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ۔ نجی ٹی وی اینکر پرسن فریحہ نے متاثرہ خاتون کے گھر والوں سے معلومات لیں جن کو انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیئر کیا جنہیں کسی

بھی انسانی کی آنکھیں نم ہو جائیں ۔ معروف صحافی نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے 130ایمرجنسی پر کال کر کے اپنی لوکیشن بتائی جبکہ ان کی طرف سے خاتون کو ایک نمبر دیا گیا وہاں کا مقامی نمبر تھا ، خاتون سےکہا گیا کہ یہ آپ کے بالکل قریب ہے آپ یہاں کال کریں اور ان سے مدد کا کہیں ۔ خاتون نے ایمرجنسی 130کی جانب سے دیئے گئے نمبر پر کال کی اور مدد کیلئے بلایا ۔ خاتون نے قریباً ایک گھنٹہ انتظار کیا ۔ معروف صحافی فریحہ کا کہنا تھا کہ گاڑی کے شیشے ایسے کہ باہر سے یہ انداز لگانا مشکل تھا کہ اندرکتنے افراد ہیں ۔ کچھ دیر بعد کچھ لوگ گاڑی کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے جن کے ہاتھ بندوقیں تھیں خاتون ان افراد کو اپنی طرف آتے دیکھ کر خوفزہ ہو گئیں وہ قریب آئے انہوں نے گاڑی کے شیشے توڑے اور خاتون کا دو سالہ بچہ اٹھا لیا جب وہ اسے گھسیٹ رہے تھے تو عورت کے دل میں آیاکہ وہ بھاگ جائے لیکن اسی دوران اس نے ایک پاس سے گزرتی ہوئی گاڑی سے مدد کیلئے ہاتھ دیا ۔ وہ گاڑی اس کے پاس رک گئی تو وہ سکون میں آئی ۔ لیکن جب گاڑی کی جانب سے کوئی مدد نہ ملتے دیکھی تو وہ فوراً اپنے بچوں کو بچانے کیلئے دوڑ پری ، ڈاکو بچوں کو ما رہے تھے جبکہ جوتے ان کے سڑک کے قریب رہے گئے تھے ۔ خاتون مسلسل دعا پڑھ رہی تھی جبکہ وہ اپنے بچوں سے بھی ایسا کرنے کا کہہ رہی تھی ۔ خاتون

نے بتایا اسے کوئی ڈر یا خوف نہیں رہا کہ پولیس ان تک پہنچ جائے گی کیونکہ اطلاع دیئے ہوئے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے سے زائد ہو گیا تھا ۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ان مسلح افراد کے ارادے واضح ہو چکے تھے ، اگر پتا چلے کہ ا ن کو مخبری کی گئی ہے تو وہ بالکل بھی حیران نہیں ہو ں گی، خاتون سے موبائل فون اس چھینا جھپٹی کے دوران گاڑی نیچے گر گیا اور وہ سیٹ کے نیچے چلا گیا ، ڈاکوؤں نے موبائل کا مطالبہ بھی نہیں کیا جو کہ بعد میں گاڑی کی سیٹ کے نیچے سے ملا ۔معروف صحافی نے مزید بتایا کہ لڑکی کو پیغام دیا گیا پاکستان آپ کیساتھ ہے ، آپ کسی چیز پر افسردہ نہ ہوں جنہوں نے یہ ظلم آپ کیساتھ کیا انہیں عنقریب پکڑ کر عبرتناک سزا دی جائے گی ۔ دوسری جانب وٹر وے پر متاثرہ خاتون کیس کی تحقیقات کے دور ان تفتیشی اہلکاروں کو واقعے کی جگہ سے متاثرہ خاتون سے چھینی گئی انگوٹھی اور گھڑی مل گئی۔تفتیشی اہلکاروں کی جانب سے دونوں اشیا کو برآمد کرنے کے بعد فنگر پرنٹ کے تجزیئے کے لیے بھجوا دیا گیا ۔آئی جی پنجاب انعام غنی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 15 مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کر لی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 3 مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کے لیے موبائل کمپنیز کے ڈیٹا کا تجزیہ ہو رہا ہے۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ لوکل کیمروں سے ویڈیو ریکارڈنگ لے کر مشتبہ افراد کی شناخت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔دوسری جانب پنجاب پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کا

سیکیورٹی کنٹرول سنبھال لیا ہے۔آئی جی پنجاب انعام غنی نے ایس پی یو اور پی ایچ پی کی مشترکہ ٹیموں کو لاہور تا سیالکوٹ موٹر وے پر گشت کرنے کا حکم دے دیا ہے۔قبل ازیں موٹروے پر متاثرہ خاتون سے متعلق کیس میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کی تحقیقات میں نیا رخ سامنے آیا ہے۔مدعی مقدمہ اور اس کے ساتھی سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی خراب ہونے پر خاتون نے سردار شہزاد نہیں جنید کو فون کیا۔ جنید اپنے دوست سردار شہزاد کے ساتھ متاثرہ خاتون کی مدد کے لئے پہنچا۔جنید نے سردار شہزاد کو مقدمے کا مدعی بنایا۔سردار شہزاد نے خود کو خاتون کا رشتہ دار بتایا۔مقدمے کے مدعی اور ساتھی بھی شامل تفتیش ہیں۔دونوں نے اپنے فون نمبر بند کر دیے ہیں۔سردارشہزاد گوجرانوالہ کا رہائشی ہے۔سردار شہزاد نے خود کو خاتون کا رشتہ دار بتایا جب کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنید اور خاتون کا دوستانہ تعلق تھا۔خاتون نے جنید کو کال کی اور اورچ جنید سردار شہزاد کے ساتھ موقع پر پہنچا۔ سی پی او گوجرانوالہ نے دونوں لڑکوں سے تفتیش کی ہے۔دونوں نے مقدمے میں اپنے نمبر اور پتہ غلط درج کروائے جس کے بعد معاملہ مشکوک ہوگیا۔پولیس نے دونوں افراد کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ خاتون لاہور کی رہائشی تھی جب کہ گجرانوالہ میں اس کا سسرال رہائش پذیر ہے۔پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے کہ خاتون نے لاہور میں یا گوجرانوالہ میں کسی رشتہ دار سے رابطہ کرنے کے بجائے دوست کے ساتھ رابطہ کیوں کیا۔واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور کے علاقے گجرپورہ میں خاتون سے کیساتھ خوفناک واقعہ پیش آیا تھا ، جہاں ملزمان نقدی اور زیورات لوٹنے کے بعد خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے بے آبرو کر کے فرار ہوگئے ، پولیس کی طرف سے معاملے پر تفتیش جاری ہے، سی آئی اے اور انوسٹی گیشن پولیس تاحال ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی ، پولیس نے ریکارڈ یافتہ افراد کو بھی شامل تفتیش کرکے جلد اصل ملزمان کی گرفتاری کی امید ظاہر کی گئی ہے۔،دوسری طرف اس واقعے کے خلاف سوشل میڈیا پر عوام کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے ، اس سلسلے میں قانون سازی اور ملزمان کی سرعام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *