اسرائیل سے معاہدہ مہنگا پڑنے لگا۔۔!! اماراتی مصنوعات کا استعمال ’ حرام ‘ قرار دے دیا گیا، اُمت کے نام پیغام جاری

طرابلس (ویب ڈیسک) لیبیا کی مرکزی افتا کونسل نے اسرائیل کے تعلقات استوار کرنیکا اعلان کرنے پرامارات کی مصنوعات کا استعمال حرام قرار دیتے ہوئے امارات کا ہرسطح پر بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق لیبیا کی افتاح کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل

پوری مسلم امہ اور عالم عرب کا اولین دشمن ہے۔اس کے ساتھ دوستی کرنے والے مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔بیان میں عالم اسلام اور عرب ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ امارات کا معاشی، سیاسی، سفارتی اور سماجی شعبوں سمیت ہر سطح پر بائیکاٹ کریں تاکہ ابو ظبی کی حکومت کو یہ احساس دلایا جاسکے کی فلسطینی قوم کے حقوق کی قیمت پر اسرائیلی ریاست سے دوستی کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرکے خود کو عالم اسلام کی صف سے نکال کر مسلمانوں کے دشمنوں کی صف میں کھڑا کیا ہے۔ اسرائیل سے دوستی کرنے والے مسلمانوں میں تفرقہ بازی پیدا کرنے اور عالم اسلام میں تباہی پھیلانے میں دشمن کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور اسرائیل میں معاہدے پر مسلم ممالک کا شدید تشویش کا اظہار۔ترکی کا امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے پر غور۔ہمیشہ سے دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔پاکستان۔تفصیلات کے مطابق اسرائیل سے امن معاہدے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے پر فلسطین، ترکی اور ایران کے صدور نے متحدہ عرب امارات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔ترکی نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو منافقانہ طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اس معاہدے کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ رویہ ‘منافقانہ’ہے۔ترکی

کا کہنا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے ‘منافقانہ طرز عمل’ کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے کیونکہ ترکی کے مطابق یو اے ای نے یہ فیصلہ اپنے مفادات کے لیے کیا ہے۔اس تحریری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے خلاف فلسطینی عوام اور انتظامیہ کا سخت ردعمل جائز ہے۔یہ بہت پریشان کن بات ہے، متحدہ عرب امارات کو عرب لیگ کی جانب سے تیار کردہ عرب امن منصوبے کے ساتھ چلنا چاہیے تھا۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ اس تین طرفہ اعلان کو فلسطینی عوام کے لیے فائدہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔ترکی نے اسرائیل سے امن معاہدہ کرنے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے سفارتی تعلقات معطل کرنے پر غور شروع کردیا ہے ۔ترک صدر رجب طیب اردوان کا بیان میں کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے وزیر خارجہ کو امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے یا اپنے سفیر کو واپس بلانے پر مشاورت کا کہا ہے، ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔جب کہ امارات اسرائیل امن معاہدے کے بعد فلسطین نے ابوظبی سے احتجاجاً اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کو جارحیت قرار دیتے ہوئے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی فلسطینی مقاصد سے غداری کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الاقصی، مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی کاز کو دھوکا دیا گیا۔فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے رام

اللہ سے جاری بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات حقیر معاہدے سے فوری پیچھے ہٹے۔اتھارٹی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امارات کو حق نہیں پہنچتا کہ فلسطینی عوام کی طرف سے بات کرے، کسی کو فلسطینیوں کے امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔فلسطینی اتھارٹی نے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلا کر ڈیل یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اتھارٹی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امارات کا اقدام عرب امن آغاز اور عرب سربراہ اجلاسوں کی قراردادوں کی تباہی ہے۔عرب ممالک امریکی دبائو میں نہ آئیں۔دوسری جانب امارات، اسرائیل سفارتی تعلقات کی بحالی پر فلسطینی رہنما حنان اشراوی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ دعا ہے آپ کو اپنا ملک چوری ہونے کی اذیت نہ سہنا پڑے، دعا ہے کہ آپ کو زیر قبضہ حراست میں جینے کا دکھ نہ برداشت کرنا پڑے۔حنان اشراوی نے مزید کہا کہ دعا ہے آپ کو اپنے گھر ڈھائے جانے کا منظر نہ دیکھنا پڑے، دعا ہے آپ کو اپنے عزیزوں کو قتل ہوتا نہ دیکھنا پڑے۔فلسطینی رہنما نے یہ بھی کہا دعا ہے آپ کے دوست ہی آپ کو سر بازار نہ بیچ دیں۔ اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔دونوں فلسطینی رہ نمائوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی فلسطینی قوم کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف اور فلسطینی شہدا کے خون کے ساتھ غداری ہے۔ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان

معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کوئی بھی پیشرفت فلسطینی عوام کے بغیر قابل قبول نہیں ہوگی۔ متحدہ عرب امارات نے فلسطینی عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کے مظلوم عوام اور دنیا کی تمام آزاد قومیں غاصب اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات بحالی کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اقدام ابو ظہبی اور تل ابیب کی طرف سے اسٹریٹجک حماقت ہے۔اردن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کا دار و مدار اسرائیل کے ردِ عمل پر ہوگا۔ اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن سفادی نے کہا ہے کہ وہ نہ تو اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور نہ اسے مسترد کریں گے ۔متحدہ عرب امارات کے پڑوسی ملک عمان نے اسرائیل اور اماراتی حکومت کے درمیان تعلقات کے استوار کرنے کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کیا جا سکے گا۔ بحرین نے بھی کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے تاریخی اقدام سے خطے میں امن کی کوششیں مضبوط ہوں گی۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کے ترجمان کا معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور امن کی کوششوں میں معاون ہر اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ ہم نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کے معاہدے کا مشترکہ بیان دیکھا ہے، یہ دور رس مضمرات کی

حامل پیش رفت ہے، فلسطینی عوام کے جائز حقوق انہیں دیے جائیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے پختہ عہد پر کاربند رہا ہے کہ فلسطین کے عوام کے تمام جائز حقوق انہیں دیے جائیں جس میں استصواب رائے کا حق بھی شامل ہے، مشرق وسطی میں امن و استحکام بھی پاکستان کی کلیدی ترجیح ہے۔ترجمان نے کہا کہ منصفانہ، جامع و پائیدارا من کے لیے پاکستان نے اقوام متحدہ اور ’او آئی سی‘ کی متعلقہ قراردادوں اور عالمی قانون کے مطابق ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے، پاکستان اس تجزیے سے رہنمائی حاصل کرے گا کہ کیسے فلسطینیوں کے حقوق اور امنگوں کو مقدم رکھا جاتا ہے اور کس طرح سے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کی پاس داری کی جاتی ہے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی مخالفت اب بھی کرتا ہوں اور صدر بننے پر بھی کروں گا۔انہوں نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی میں مزید استحکام کے لیے معاہدہ تاریخی اقدام ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات سے باہمی تعلقات کا معاہدہ طے پانے کے باوجود مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات سے معاہدے کے ایک روز بعد ہی اپنے بیان میں مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق اہم بیان دیا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات

سے باہمی تعلقات کے معاہدے کے تحت وہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے میں تاخیر پر رضا مند ہیں لیکن یہ منصوبہ اب بھی ان کی ٹیبل پر موجود ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ انہوں نے صرف اس منصوبے میں تاخیر پر رضا مندی ظاہر کی تھی لیکن وہ اپنے حقوق اور اپنے زمین کے لیے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی خودمختاری کو بڑھانے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، مغربی کنارے کے علاقوں میں امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہماری خودمختاری ہے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شہزادہ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں کو مزید اسرائیل میں ضم کرنے سے روکنے کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا۔فلسطینی اسلامی گروپ حماس نے کہا کہ اس معاہدے سے فلسطینی کاز میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ‘امن معاہدے ’ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ‘اس سے فلسطین کے مقاصد پورے نہیں ہوتے ۔’ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ دراصل ‘متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے ۔مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہاس سے مشرق وسطی میں امن لانے میں مدد ملے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.