1998 میں ایٹمی تجربات کے بعد جب پاکستان کی حالت واقعی گھاس کھانے والی ہو گئی تھی ، ان مشکل ترین دنوں میں سعودی عرب نے ہم پر کیا احسان کیا تھا ؟ لٹھ لے کر عربوں کے پیچھے پڑ جانیوالے پاکستانی ضرور پڑھیں

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان اور سعودی عرب کو قریب لانے میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی کاوشیں اور خدمات قابل قدر ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال میں جس تدبر کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ پی ٹی آئی کے برسراقتدار آنے کے بعد جب پاکستان کی معیشت دبائو کا شکار تھی،

نامور کالم نگار مرزا اشتیاق بیگ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی مالی امداد اور 3 ارب ڈالر ادھار تیل کے معاہدے میں سعودی سفیر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی، سیاسی اور فوجی تعلقات چند سال کی بات نہیں بلکہ یہ تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس نے ایٹمی تجربات ، قدرتی آفات اور عالمی سطح پر حمایت میں پاکستان کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے جو تاریخ کا حصہ ہے۔ 1965ء کی پاک بھارت لڑائی میں سعودی عرب نے پاکستان کی توقعات سے بڑھ کر مالی مدد کی، 1967ء میں شاہ سلطان بن عبدالعزیز کے دورہ پاکستان کے موقع پر سعودی مسلح افواج کے دستوں کی پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج میں تربیت کا معاہدہ طے پایا، 1970-80ء میں سوویت افغان لڑائی کے دوران افغان جہاد کیلئے سعودی عرب نے پاکستان کو اربوں ڈالر فراہم کئے۔ اسی طرح 1998ء میں ایٹمی تجربوں کے بعد جب پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر صرف 200 ملین ڈالر تھے، سعودیہ نے پاکستان کی اربوں ڈالر کی مدد کی جبکہ حالیہ دنوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ پاکستان کے موقع پر سعودی عرب نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ سعودی عرب میں 40 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں جو سالانہ 5 ارب ڈالر سے زائدکی ترسیلات زر

اپنے وطن بھیج رہے ہیں۔ اسی طرح حج اور عمرے کی سعادت کیلئے ہر سال لاکھوں پاکستانی سعودی عرب جاتے ہیں۔پاکستان نے نہ صرف مسئلہ کشمیر اور فلسطین بلکہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر موثر آواز بلند کی ہے مگر مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے، بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے معاملے پر پاکستان تنہا نظر آیا جس کی بڑی وجہ کچھ برادر اسلامی ممالک کا بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ او آئی سی کو چاہئے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر اپنی آواز بلند کرے لیکن اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو مسلمانوں کا او آئی سی پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور مسئلہ کشمیر پر او آئی سی اور عرب ممالک کی جانب سے حمایت حاصل نہ ہونے پر حکومت شدید دبائو کا شکار ہوئی جس کی نشان دہی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان سے ہوتی ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ سعودی عرب کی مخالفت اور برادر عرب ممالک کو ناراض کئے بغیر معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ افسوس کہ کل تک موجودہ حکومت ،سعودی عرب اور ایران میں صلح کرانے کے دعوے کررہی تھی لیکن آج اُسی حکومت کی سعودی عرب سے صلح کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سعودی عرب جانا پڑا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.