مس آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) لڑکیوں کے سکول میں آنے والی نئی ٹیچر انتہائی خوبصورت اور تعلیمی طور پر بھی مضبوط تھی لیکن اس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی، تمام لڑکیاں اس کے ارد گرد جمع ہو گئیں اور مذاق کرنے لگی کہ میڈم آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی ؟ میڈم نے داستان کچھ یوں شروع کی۔

ایک عورت کی پانچ بیٹیاں تھیں، شوہر نے اس کو دھمکی دی کہ اگر اس بار بھی بیٹی ہوئی تو اس کی بیٹی کو باہر کسی سڑک یا چوک پر پھینک آؤں گا خدا کی مرضی وہ ہی جانے کہ چھٹی بار بھی بیٹی ہی پیدا ہوئی اور شوہر نے بیٹی کو اٹھایا اور رات کے اندھیرے میں شہر کے بیچوں بیچ چوک پر رکھ آیا، ماں پوری رات اس ننھی سی جان کے لیے دعا کرتی رہی اور بیٹی کو خدا کے سپرد کر دیا۔ دوسرے دن صبح والد جب چوک سے گزرا تو دیکھا کہ کوئی بچی کو نہیں لے کر گیا، باپ بیٹی کو واپس گھر لایا لیکن دوسری رات پھر بیٹی کو چوک پر رکھ آیا یہ عمل وہ روز کرتا رہا، ہر بار والد باہر رکھ آتا اور جب کوئی لے کر نہیں جاتا تو مجبوراً واپس اٹھا لاتا، یہاں تک کہ اس کا باپ تھک گیا اور اللہ کی مرضی پر راضی ہو گیا۔ پھر اللہ نے کچھ ایسا کیا کہ ایک سال بعد ماں پھر پیٹ سے ہو گئی اور اس بار ان کے ہاں بیٹا ہوا لیکن چند دن بعد بیٹیوں میں سے ایک کی موت ہو گئی، یہاں تک کہ ماں پانچ بار پیٹ سے ہوئی اور پانچ بیٹے ہوئے لیکن ہر بار اس کی بیٹیوں میں سے ایک اس دنیا سے چلی جاتی۔ صرف ایک ہی بیٹی زندہ بچی اور وہ وہی بیٹی تھی جس سے باپ جان چھڑانا چاہ رہا تھا، ماں بھی اس دنیا سے چلی گئی ادھر پانچ بیٹے اور ایک بیٹی سب بڑے ہو گئے۔ ٹیچر نے کہا پتہ ہے وہ بیٹی جو زندہ رہی کون ہے؟

وہ میں ہوں اور میں نے ابھی تک شادی اس لیے نہیں کی کہ میرے والد اتنے بوڑھے ہو گئے ہیں کہ اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے اور کوئی دوسرا نہیں جو ان کی خدمت کرے۔ بس میں ہی ان کی خدمت کیا کرتی ہوں اور وہ پانچ بیٹے کبھی کبھی آ کر باپ کا حال چال پوچھ لیتے ہیں۔ والد ہمیشہ شرمندگی کے ساتھ رو رو کر مجھ سے کہا کرتے ہیں، میری پیاری بیٹی جو کچھ میں نے بچپن میں تیرے ساتھ کیا اس کے لیے مجھے معاف کرنا، میں نے کہیں بیٹی کی باپ سے محبت کے بارے میں ایک پیارا سی قصہ پڑھا تھا کہ ایک باپ بیٹے کے ساتھ فٹ بال کھیل رہا تھا اور بیٹے کا حوصلہ بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر ہار رہا تھا، دور بیٹھی بیٹی باپ کی شکست برداشت نہ کر سکی اور باپ کے ساتھ لپٹ کے روتے ہوئے بولی بابا آپ میرے ساتھ کھیلیں تاکہ میں آپ کی جیت کے لیے ہار سکوں، سچ ہی کہا جاتا ہے کہ بیٹی باپ کے لئے رحمت ہوتی ہے۔۔۔ایک بار ایک لڑکا اپنی ایک ٹیچر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہوتا ہے؟ وہ بولی کہ اس کا جواب میں تمہیں ایک تجربے کی روشنی میں سکھاؤں گی۔ ایک گندم کے کھیت میں جاؤ اور وہاں سے گندم کا ایک ایسا خوشہ توڑ کر لاؤ جو تمہیں سب سے بڑا اور شاندار لگے۔

پر ایک شرط ہے کہ ایک بار آگے چلے گئے۔ تو کھیت میں واپس جا کر کوئی پرانا گندم کا خوشہ نہیں توڑ سکتے، مثال کے طور پر تم نے ایک بہت بڑا خوشہ دیکھا لیکن تمہیں لگے کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اور تم اس کو چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہو اور آگے کوئی خوشہ اس جتنا بڑا نہیں ملتا تو اب تم واپس لوٹ کر اس والے کو نہیں لے سکتے۔ وہ گیا اور بغل والے کھیت میں چھانٹی کرنے لگا، ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ چوتھائی کھیت میں چھانٹی کر کے اس کو بہت سے بڑ ے بڑے گندم کے خوشے نظر آئے لیکن اس نے ان میں سے کسی کو چننے کے بچائی سوچا کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اس میں اس سے بھی بڑے مل جائیں گے، جب اس نے سارا کھیت دیکھ لیا تو آخر میں اس کو سمجھ آئی کہ بالکل شروع میں جو خوشے اس نے دیکھے تھے وہی سب سے بڑے بڑے تھے اور اب وہ واپس تو جا نہیں سکتا تھا، سو وہ اپنی میڈم کے پاس خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ اُس کی میڈم نے پوچھا کہ کدھر ہے سب سے بڑا گندم کا خوشہ، وہ بولا کہ میں آگے نکل گیا تھا اس امید میں کہ شاید کوئی اور بہتر والا مل جائے گا مگر جب تک سمجھ آیا ، میں آگے آگیا تھا اور واپس تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ اس کی میڈم نے بولا کہ بیٹے سمجھ جاؤ کہ یہ معاملہ ہی محبت میں ہوتا ہے۔

آپ جوان ہوتے ہو، کم سن اور پر جوش بہتر سے بہتر کی تلاش میں ایک عمر گزار دیتے ہو۔ تو پتہ چلتا ہے کہ جو بیچ میں چھوڑ دیے تھے وہی لوگ اصل میں بہت انمول تھے لیکن اب آپ ان کو واپس حاصل نہیں کر سکتے تو پچھتاتے ہو۔ اب ایک کام کرو ساتھ والے چھلی کے کھیت میں جاؤ اور ادھر سے سب سے بڑی چھلی لے کر آؤ جو تمہیں مطمئن کر سکتی ہو۔ وہ گیا اور لگا مکئی کے کھیت کی چھانٹی کرنے۔ ابھی تھوڑا ہی کھیت دیکھا تھا کہ ایک درمیانی چھلی اس کو ٹھیک لگی اور اس نے سوچا کہ پھر پہلے والی غلطی نہ کر بیٹھوں، تو وہ اسی کو لے آیا۔ میڈم نے بولا اب کی بار آپ خالی ہاتھ نہیں لوٹے؟ اس نے بولا، مجھے لگا کہ اس سے بڑی بھی ہوں گی مگر میرے لیے یہی بہتر تھی اور اگر آگے اس سے بھی چھوٹی ہوتیں تو میں واپس بھی تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ میڈم بولی: یہ ہے شادی کا معاملہ، جو آپ کو ایسی لگے کہ یہ مجھے مطمئن کر رہی ہے، اس کا سب سے شاندار ہونا ضروری نہیں، اور یہ بات ہمیشہ آپ کو آپ کی ماضی کی محبتوں کے تجربے سکھاتے ہیں۔ اب آپ سمجھے کہ محبت اور شادی میں کیا فرق ہوتا ہے۔ جس یہ دونوں سٹوریاں پسند آئی ہیں وہ آگے ضرور شیئر کرے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.