ترکی نے پوری دنیا کو پیغام دے دیا

انقرہ (ویب ڈیسک) چیئرمین پاک ترک فرینڈشپ گروپ اور ممبر ترک پارلیمنٹ علی شاہین نے یوم استحصال کشمیر پر پوری دنیا کو واضح پیغام دے دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سری نگر کے بچے انقرہ کے بچے ہیں ، کشمیر کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اناطولیہ کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ کشمیر کی مائوں

کے آنسو ترک مائوں کے آنسو ہیں۔یومِ استحصال کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارے کشمیری بھائی یہ جان لیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔پاک ترک فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین علی شاہین کو ان کی خدمات کے عوض 14 اگست کو پاکستان کی جانب سے “ستارہ قائداعظم” دیا جائے گا۔علی شاہین کہتے ہیں کہ میرے لئے’’ستارہ قائد‘‘ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ صدر عارف علوی اور ترک صدر کا شکر گزار ہوں۔ میں بھارتی جارحیت اور کشمیر کی آزادی کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتا رہوں گا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان نےبھارت میں تاریخی بابری مسجدکی جگہ رام مندرتعمیرکرنےکی ایک بارپھرشدید مذمت کرتےہوئےکہاہےکہ بھارتی سپریم کورٹ کے خامیوں وسقم سے بھرے فیصلے سے اس مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی جو انصاف پر عقائد کے غالب ہونے کی واضح عکاسی ہے،یہ بھارت کے اندر اکثریت کی بڑھتی ہوئی مطلق العنانیت کا بھی کھلا اظہار ہے،تاریخی مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر آنے والے وقت میں نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبہ بن کر برقرار رہے گی،عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام متعلقہ عالمی تنظیموں کو بھارت میں ہندتواحکومت سے اسلامی ورثہ اور تاریخی مقامات اور بھارت میں بسنے والی اقلیتوں اوران کے مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔نجی ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان پانچ صدی قدیم تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی ایک بار پھر شدید مذمت کرتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے خامیوں وسقم سے بھرے فیصلے سے اس مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی جو انصاف پر عقائد کے غالب ہونے کی واضح عکاسی ہے،یہ بھارت کے اندر اکثریت کی بڑھتی ہوئی مطلق العنانیت کا بھی کھلا اظہار ہے جس میں اقلیتوں بالخصوص مسلمان اور ان کی عبادت گاہیں مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ترجمان نے کہاکہ تاریخی مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر آنے والے وقت میں نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبہ بن کر برقرار رہے گی،بی جےپی اور اس کےانتہاپسندوں کی جانب سے1992میں مسجدشہید کرنےکےدردناک مناظردنیا بھر میں مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ اس وقت سے او آئی سی نے کئی صدیاں قدیم مسجد شہید کرنے کے بہیمانہ اقدام کی مذمت میں کئی قراردادیں منظور کی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.