بریکنگ نیوز: پاکستان کا معاشی بحران ختم شد ۔۔۔ ملکی تاریخ کی ایک بڑی سرمایہ کاری کے اعلان نے بنی گالہ میں جشن کا سماں بنا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کسی بھی ملکی معیشت کے لئے سرمایہ کاری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس میں سرمایہ کاری ہو گی اُس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی اور جس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی اُس ملک پر تمام ممالک کا اعتبار قائم ہو گا اب پاکستان کے حلات بھی تیزی سے بدلنے شروع ہو گئے ہیں کیونکہ


اب پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ ہمارا ملک سی پیک پر کام کی رفتار سے مطمئن ہے، پاکستان اور چین کے مابین آزادانہ تجارت کے معاہدے کا دوسرا مرحلہ اگلے ماہ حتمی شکل اختیار کر لے گاجس کے بعد پاکستان کی زرعی پیداوار اور سی فوڈ سمیت 90 فیصد اشیا پر صفر ڈیوٹی عائد ہو گی جس سے تجارت متوازن کرنے میں مدد ملے گی۔ چین کے سفیر یاؤ جنگ نے یہاں ویمن چیمبر کی بانی صدرثمینہ فاضل کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایف ٹی اے ٹوکے آپریشنل ہونے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں 500 ملین ڈالر تک کا اضافہ ہو گا۔ پاکستان کے تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر جلد عمل درآمد ہو گا۔ انہوں نے باہمی تجارت میں اضافہ کے لئے ویمن چیمبر کی سفارشات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی تاجر خواتین کو قریب لانے کی کوشش کریں گے اور چینی تاجر خواتین کو نومبر میں منعقد ہونے والے پانچویں اسلام آباد ایکسپو میں مدعو کریں گے جبکہ پاکستانی تاجر خواتین کو چین میں منعقد ہونے والے مختلف نمائشوں میں بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستانی دستکاریوں کی بڑی مانگ ہے جبکہ بلوچستان کی

دستکاریوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ سی پیک حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے،سی پیک منصوبوں پر ترجیجی بنیاد پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کومشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے چین کے سفیر یاہو جنگ نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امکورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ سی پیک حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے،سی پیک منصوبوں کو ترجیجی بنیاد پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین کی توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں چینی امداد پر شکریہ گزر ہیں۔مشیر خزانہ نے کہاکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گوادر بندرگاہ اور گوادر فری زون کے منصوبوں کو تیز رفتار کرنے کیلئے متعدد فیصلے کیے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق مشیر خزانہ نے ایف اے ٹی ایف شرائط پر عملدر آمد کیلئے چین کی حکومت کی تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.