بیرون ملک پڑی ہوئی دولت کو واپس لانے کی تیاریاں۔۔۔عمران حکومت اور برطانیہ میں شاندار معاہدہ طے پا گیا، پاکستانیوں کے لیے بڑا سرپرائز

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نواز شریف ضرور واپس آئیں گے کیونکہ اگر وہ علاج کے بعد وطن واپس نہیں لوٹے تو ان کی سیاست ختم ہو جائیگی۔ایک انٹرویومیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ احتساب کا عمل جاری ہے اور اس میں کہیں ٹھراؤ نہیں آیا ہے، ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ایف آئی یو کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بیرون ملک موجود غیر قانونی دولت کو ملک میں واپس لانے کے لیے بھی بہت کام کیا ہے۔

ہم نے معلومات کے تبادلے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کیے اور مختلف ممالک سے معلومات کی بنیاد پر رقم بھی برآمد ہوئیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ اسحاق ڈار نے بیرون ملک پڑے 200 ارب روپے کی بات کی تھی جو درست معلومات نہیں تھی۔ ہمیں بیرون ملک سے 11 بلین ڈالر کی تفصیلات ملی تھیں جس کی ریکوری کے لیے ہم نے کام بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے کیس پر برطانیہ نے ہم سے معاہدہ کر لیا ہے تاہم اس کی بنیاد پر وہاں بھی ایک مقدمہ چلتا ہے اور باقاعدہ ایک طریقہ کار ہے جس پر ہمارا کام جاری ہے۔ اس حوالے سے نیب کے ترجمان بھی برطانیہ کی وزارت داخلہ سے رابطے میں ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ یہ معاملہ جلد سے جلد حل ہو جائے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ بیرون ملک 10 ہزار جائیداد کی معلومات کے بعد سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک بینچ بنایا گیا تھا جس کے بعد جو جائیداد کی تفصیلات سامنے آئی تھیں ان میں سے کافی کو ریکور کیا اور مزید پر کام جاری ہے۔ کئی افراد نے ٹیکس اور جرمانے کی رقم ادا کر دی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 26 ممالک سے پاکستانیوں کی جائیداد کی تفصیلات سامنے آئی تھیں جو اب 46 ممالک تک چلا جائے گا۔ جن کی تفصیلات دسمبر میں ملنے کا امکان ہے لیکن میں قانون کی پابندی کی وجہ سے لوگوں کے نام اور ان کی تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ پانامہ میں بڑے بڑے لوگوں کے نام آئے تھے جن کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چلا تھا۔ ہمارے عدالتی نظام میں کئی مسائل موجود ہیں جس کی وجہ سے مقدمات انتہائی لمبے چلتے ہیں، ہمارا عدالتی نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ نواز شریف کو دو مقدمات میں سزا بھی ہو چکی ہے۔ دیگر گرفتار رہنماؤں کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ احتساب کرنا اداروں کا کام ہے حکومت نے تو صرف ماحول اور وسائل فراہم کرنے ہیں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ ہمارے ملک میں تو باریاں لگی ہوئی ہیں اور اس نظام سے این آر او کی صورت میں سیاستدانوں نے فائدہ بھی اٹھایا ہے۔ ہم نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے بعد ہی انہیں باہر جانے کی اجازت دی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.