احسان اللہ احسان کو پاک آرمی نے کس آپریشن میں بھیجا تھا جہاں سے وہ فرار ہو گیا۔۔ ؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دنگ کر ڈالنے والی حقیقت بتا دی

راولپنڈی (نیوز ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کو ایک آپریشن کے دوران استعمال کئے جانے کے دوران فرار ہوا جبکہ اس کے دعوﺅں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل

میجر جنرل بابرافتخار نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ احسان اللہ احسان کا مبینہ آڈیو ٹیپ بالکل بے بنیاد ہے۔ ہم اسے ایک آپریشن کے دوران استعمال کر رہے تھے کہ وہ فرار ہو گیا جبکہ اس نے جتنی بھی معلومات دیں وہ دہشت گرد تنظیموں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کیلئے بہت کام آئیں۔ ان کا کہنا تھا اگرچہ احسان اللہ احسان نے پاک فوج کو مفید معلومات دیں اور ان کی مدد سے دہشت گرد تنظیموں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے میں بھی بہت مدد ملی مگر اس کے دعوﺅں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ محدودوسائل کےساتھ دشمن کامقابلہ کرنےکےلیےتیارہیں،5رافیل آئیں یا500،ہم تیارہیں،کشمیری عوام کی جدوجہدآزادی انشاءاللہ کامیاب ہوگی، مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کو سلام پیش کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے مبصر گروپ اور انٹرنیشنل میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی
اجازت نہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے، بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے، خواتین اور بچوں کی حرمت کو پامال کیا جارہا ہے،‏مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی

سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں،آزادی کی قدر مقبوضہ کشمیر کی ماؤں سے پوچھیں جو بیٹوں کو پاکستانی پرچم میں دفن کرتی ہیں،مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کو سلام پیش کرتے ہیں،‏کشمیریوں کے خلاف مظالم پر اٹھنے والی آوازیں دنیا بھر میں گونج رہی ہیں،‏انسانی حقوق کی تنظیموں اور انٹر نیشنل میڈیا نے بھی بھارتی ظلم و جبر کو بے نقاب کیا، اقوام متحدہ کے مبصر گروپ اور انٹرنیشنل میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں ،‏بھارت میں دہشت گروپ کی نشاندہی کی گئی، بھارت میں دنیا میں اسلحہ خریدنےو الے مملک میں سرفہرست ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے پڑوسی ملک میں جاکر ملتے ہیں۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، پاکستان نے افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے بھرپور کردار ادا کیا، بھارت خطے کو عدم استحکام کیطرف بھیج رہا ہے،حالیہ عالمی رپورٹ میں بھی بھارت میں دہشتگرد گروپس کی نشاندہی کی گئی،‏پاک ایران بارڈر پر بھی باڑ لگانے کا کام جاری ہے،پاک افغان سرحد پر دیر پا اقدامات کیے جارہے ہیں، ‏2611کلومیٹر پر باڑ پر کاکام مکمل کیا جاچکا ہے، بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے سعودی عرب کےساتھ برادرانہ تعلقات پر فخر ہے ،باڑ لگانے سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.