امارات اور اسرائیل کے درمیان ڈیل کروانے میں سعودی عرب نے کیا کردار ادا کیا؟ اب محمد بِن سلمان کا اگلا منصوبہ کیا ہے؟ پوری اُمت چِلا اُٹھی

امریکا (ویب ڈیسک ) وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر جریڈ کشنر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی ڈیل کو انجام تک پہنچانے میں ہمیں سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل تھی۔تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر اور داماد جریڈ کشنر نے امریکی ٹی وی کو

انٹرویو کے دوران کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا معاہدہ گذشتہ 26 سال میں تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسلم ممالک میں رائے عامہ ہموار کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے اور کسی ایسے ملک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بات چیت کے ذریعے اعتماد میں لیا اور ان کو امریکی پالیسیوں کے لئے آمادہ کیا۔جریڈ کشنر نے مزید بتایا کہ اسی دورے کے بعد پہلے نمبر پر سعودی عرب کے تعاون سے ایران کے معاملے پر امریکہ نے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور دوسرے نمبر پر دہشت گردوں کی مالی معاونت ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔تیسرے نمبر پر سب سے اہم کام سعودی عرب جو کہ مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کے ساتھ مسلم دنیا کا لیڈر سمجھا جاتا ہے، کو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایسی جدت کی جانب مائل کیا گیا جس کے بعد مسلمان یہ سوچیں گے کہ اگر ان کا لیڈر پر اعتراض نہیں کر رہا تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔جریڈ کشنر کے مطابق سعودی عرب میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو آنے والے وقت میں کاروباری لحاظ سے مشرق وسطی میں شامل ممالک کے دیگر دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔نوجوانوں کی بہتر مستقبل کے لئے سعودی عرب دوسرے ممالک سے تعلقات کی بحالی کے لیے قدم اٹھانے میں ہمارے ساتھ ہے۔سعودی عرب امریکہ کے ساتھ مل کر آگے بڑھے تو ہم بہت سے میدانوں میں کامیابیاں سمیٹں گے جو کہ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.