ایک دفعہ دوبا رہ سے رونقیں بحال ۔۔۔ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے سرکاری دفاتر کے سابقہ اوقات کار بحال کر دیے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نئے اوقات کار کا نو ٹی فکیشن جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری دفاتر کے سابقہ اوقات کار بحال کر دیے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نئے اوقات کار کا نو ٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری دفاتر صبح 9 بجے تا شام 5 بجے تک کھلیں گے،نئے اوقات کار کا اطلاق 3 اگست سے ہو گا۔یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے پیش نظر سرکاری دفاتر کے اوقات کار تبدیل کرتے ہوئے اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق پیر سے جمعرات تک ہفتے میں پانچ دن سرکاری دفاتر کےاوقات کار 10 بجے سے شام 4 بجے تک تھا جبکہ جمعہ کو صبح 10 بجے سے 1 بجے تک سرکاری دفاتر کھل رہے تھے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے کشمیر کا سفیر بننا تھا ،وہ آج کلبھوشن کا وکیل ہے ،ہمیں کسی این آر او کی ضرورت نے ،سب سے زیاد ہ این آر او وزیر اعظم نے لیے ،مالم جبہ ،بی آر ٹی ،چینی اور آٹا چوری کرنے والوں کو این آر او دیا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر نے بیرون ملک جائیداد کلیئر نہیں کی ،شہزاد اکبر نے 2سال بیرون ملک جائیداد ڈکلیئر نہیں کی،وزیراعظم کے معاون خصوصی اپنے اثاثے ظاہر کریں ،نیب کو آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس شہزاد اکبر کے خلاف بنانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ قانون سازی پرسینیٹ اورقومی اسمبلی کواعتمادمیں نہیں لیاگیا، پاکستانیوں کے حقوق کیخلاف قانون سازی نہیں ہونے دیں گے، کسی کی دھمکیوں سے ڈرکراپنے حقوق سے دستبردارنہیں ہوں گے،فیٹفٹ اور نیب قوانین کو این آر او سے جوڑا جا رہا ہے ۔پریس کانفرنس کے دوران صحافی سے بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مریم نواز خاموش کیوں ہیں ؟اس سوال پر جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ن لیگ کی مرضی ہے کہ کس نمائندے سے بیان دلوائیں ،میں اپنی پارٹی کے چیئر مین کی حیثیت سے بیان دے رہا ہوں ،اس حوالے سے پراپیگنڈہ نہیں ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے مشیروں کی کرپشن کا تحفظ کرتے ہیں ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.