آخری امید بھی ختم : سعودی عرب اسرائیل کو پیارا ہو گیا ۔۔۔ پاکستان اور سعودی عرب کے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں بی بی سی نے دنیا کو بڑی بریکنگ نیوز دے دی

لندن (نیوز ڈیسک) گذشتہ کئی برسوں میں خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ انڈیا کی قربت میں اضافہ ہوا ہے۔ انڈیا کے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ معاشی تعلقات کے علاوہ سکیورٹی پالیسی کے حوالے سے بھی تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں۔ عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے بھارتی ماہر پروفیسر سنجے بھاردواج نے وضاحت کرتے ہوئے کہا

کہ ’انڈیا، امریکہ اور متحدہ عرب امارات اس بدلتے ہوئے توازن میں فطری شراکت دار بن رہے ہیں۔ نامور خاتون صحافی تاریندر کشور بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سعودی عرب اور ایران کبھی بھی اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ سعودی عرب کی امریکہ سے قربت کی وجہ سے وہ (سعودی عرب) انڈیا کے بھی قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ درحقیقت یہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔‘لیکن کیا چین، پاکستان اور ایران سے بڑھتی قربت کی وجہ سے خلیجی ممالک کی مارکیٹ میں اپنے مفادات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے؟اس کے جواب میں پروفیسر سنجے بھاردواج کا کہنا ہے کہ چین خلیجی ممالک کے بازار میں اپنے امکانات یقینی طور پر تلاش کرنے کے درپے ہے، لیکن جیو سٹریٹیجک معاملے میں ایران اور پاکستان سعودی عرب سے زیادہ اہم ہیں۔’چین یقینی طور پر سعودی عرب کو امریکہ کے اثر و رسوخ سے نکالنا چاہتا ہے لیکن وہ کبھی بھی پاکستان اور ایران کی قیمت پر یہ کام نہیں کرنا چاہے گا۔ اس کے علاوہ چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی ساتھ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘بی بی سی کے سینیئر صحافی ثقلین امام اس معاملے کو صرف ایشیا میں امریکہ اور چین کے بدلتے ہوئے حساب کتاب کے پس منظر میں نہیں دیکھتے ہیں۔ تاریندر کشور سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین نہیں ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین کسی بھی طرح کے دشمنی پر مبنی تعلقات کا دور شروع ہو گیا ہے

تاہم ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا عنصر ضرور آیا ہے۔وہ بدلتی ہوئی موجودہ صورتحال میں اسرائیل اور ایران کا کردار بھی دیکھتے ہیں۔ان کے مطابق ’پہلی مرتبہ سعودی عرب میں کوئی ایسا بادشاہ بننے والا ہے جو طویل عرصے تک اس عہدے پر براجمان رہے گا لہذا اس تبدیلی کے پیش نظر امریکہ مستقبل کے مطابق اپنی حکمت عملی طے کر رہا ہے۔ دوسری طرف بادشاہ کو ہمیشہ غیر ملکی حمایت کے ساتھ ساتھ مقامی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ قبائلی معاشرے میں مقامی سطح پر بغاوت کا خطرہ رہتا ہے اور اسی لیے بیرونی طاقت کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی حمایت کر رہا ہے مگر اس کے باوجود مستقبل میں عدم تحفظ کا احساس باقی ہے اور اس کی بنیادی وجہ اسرائیل اور ایران ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ تمام ممالک باہمی تعلقات کے توازن کو تبدیل کر رہے ہیں اور اس کے پس پشت اسرائیل اور ایران ہیں۔‘’ان سب میں جو سب سے اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے وہ اسرائیل ہے، یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان کی آمد کے بعد سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات تاریخ کے بہترین دور میں ہیں۔ ان کے تعلقات پہلے کبھی اتنے اچھے نہیں تھے۔ لیکن آج یہ دونوں ممالک ایران کے خلاف متحد ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کو ایک موثر ترین مسلم ملک سعودی عرب کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے سعودی عرب کی شناخت ایک وہابی نظریے کے حامل ملک کے طور پر تھی نہ کہ سنی ملک کے طور پر۔ لیکن اب اس کی شناخت ایک سنی ملک کے طور پر بنائی گئی ہے۔ اس سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جو بھی ایران کے خلاف ہے وہ سعودی عرب کا شراکت دار ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’اب سعودی عرب، انڈیا اور اسرائیل ایک طرف ہیں کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مشرف کے دور سے پاکستان آہستہ آہستہ چین کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیل اس توازن کو بنانے میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے اور وہ ایران کا سخت مخالف ہے۔‘سعودی عرب اور پاکستان کے بدلتے ہوئے رشتوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ساٹھ کی دہائی سے پاکستانی فوج ہمیشہ سے ہی سعودی عرب کی حفاظت کے لیے جا رہی ہے۔’سعودی عرب کے ساتھ یہ فوجی تعلقات اب بھی قائم ہیں۔ فرق صرف اتنا آیا کہ محمد بن سلمان اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مغرب کے قریب تر ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے آج بھی پاکستانی افواج کو بے دخل نہیں کیا۔‘انھوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یقینی طور پر کشیدہ صورتحال ضرور پیدا ہوئی ہے تاہم اسے دشمنی نہیں کہا جا سکتا۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.