عمران خان نے معاونین خصوصی کو ٹائم سے استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو کونسی بڑی مصیبت سے بچا لیا ؟ بڑا پول کھول دیا گیا

پشاور(ویب ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور نے مطالبہ کیا ہے کہ معاونین خصوصی سے استعفے لینے کے بعد ان پر لگے الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ وہ پاکستانی عوام کے پیسوں پر وزارتوں کے مزے لیتے رہے لیکن عوامی پیسہ لوٹ کر اب واپس جانے کی تیاریاں کرچکے ہیں۔ فیس ماسک

سمگلنگ ، لائف سیونگ ڈرگز کی بجائے وٹامنز، ادویات اور سالٹ بھارت سے درآمد پر کپتان خاموش رہے ۔باچاخان مرکز میں گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کی صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور نے کہا کہ پی ٹی آئی ٹیم کے دو اراکین کے استعفے کے بعد مزید اراکین بھی جلد جانے والے ہیں ، پاکستان کو دیوالیہ بنا کر پی ٹی آئی کے امپورٹڈ سیاستدان اپنے وطن واپس ہوں گے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وائس چانسلریونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین آزمائش کی تیاری شروع کردی ہے، ویکسین کی آزمائش کیلئے رضاکاروں کے ناموں کا اندراج کیا جا رہا ہے، آزمائش کیلئے20 ہزار افراد کے ناموں کا اندراج کیا جائے گا۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کی آزمائش کیلئے رضاکاروں کے ناموں کے اندارج کا آغاز کردیا گیا ہے۔آزمائش کیلئے 20 ہزار افراد کے ناموں کا بطور رضاکار اندراج کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جس ویکسین کی آزمائش کی جارہی ہے یہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین ہے، پاکستان آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے ویکسین کی آزمائش کا کام کرے گا۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کی آزمائش کیلئے2 ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے برطانیہ سے بھیجی گئی ویکسین کی تصدیق کیلئے حکومت پاکستان سے اجازت لی جائے گی۔دوسری جانب امریکی دوا ساز کمپنی نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کا بندروں پر کامیاب تجربات کرنے کے بعد اب انسانوں پر اس ویکسین کے ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے تیار کردہ ویکسین کو بندروں پر تجربات کے بعد امریکا اور بیلجیم میں 1000 انسانوں پر ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی تیاری پر 456 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ امریکہ میں بھی کورونا وائرس کی دو ممکنہ ویکسینز کی وسیع پیمانے پر حتمی آزمائش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے محفوظ اور موثر ہونے کا یقین کیا جا سکے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.