آغا حسن عابدی: بی سی سی آئی کی بنیاد رکھنے والے پاکستانی بینکار جن پر ایٹمی پروگرام اور فلسطینی حریت پسندوں کی معاونت کا الزام لگایا گیا

لکھنؤ یونیورسٹی میں آغا حسن عابدی کے سب سے قریبی دوست عبادت یار خان تھے، جو ادبی دنیا میں عبادت بریلوی کے نام سے معروف ہوئے۔ وہ اپنی کتاب ‘غزالان رعنا’ میں آغا حسن عابدی کا ایک بہت خوبصورت خاکہ لکھتے ہیں. آغا حسن عابدی لکھنؤ یونیورسٹی میں انگریزی
زبان میں ایم اے اور ایل ایل بی ساتھ ساتھ کر رہے تھے۔

ایک دن آغا حسن عابدی نے عبادت بریلوی سے کہا ‘نہ میں لیکچرر شپ کرسکتا ہوں، نہ وکالت، دونوں پیشے میرے مزاج کے نہیں۔ سوچتا ہوں محمود آباد اسٹیٹ میں ،جہاں میرے والد ملازم ہیں ،کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کر لوں۔‘
عبادت بریلوی نے ان سے کہا ‘اتنا پڑھ لکھ کر محمود آباد ریاست کی ملازمت تمہارے شایان شان نہیں ہوگی۔ ایک بات میرے ذہن میں آتی ہے۔ حبیب بینک نیا نیا کھلا ہے، یہ مسلمانوں کا بینک ہے۔ اگر راجہ صاحب محمود آباد، حبیب سیٹھ کو سفارشی خط لکھ دیں گے تو اس بینک میں تمہیں آفیسر کی جگہ مل جائے گی۔ لیکن یہ سوچ لو کہ اس کے لیے تمہیں بمبئی جانا ہو گا، لکھنؤ سے باہر رہنا ہو
آغا حسن عابدی نے کہا ‘یار! کیسی باتیں کرتے ہو؟ میں بینک کی ملازمت کروں گا! تم میرے مزاج سے اچھی طرح واقف ہو۔ یہ ملازمت میرے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔
عبادت بریلوی نے کہا ‘میاں صاحبزادے! حالات بہت سنگین ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ملازمتوں کے دروازے بند ہیں، مجھے تو صرف یہی دروازہ کھلا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ راجہ صاحب سے حبیب سیٹھ کے نام خط لکھوالو اور چپ چاپ بمبئی چلے جاؤ۔ اس ملازمت میں آئندہ ترقی کے امکانات بہت ہیں۔آغا حسن عابدی کو عبادت بریلوی کی یہ تجویز پسند نہیں آئی، لیکن وہ اس کے بارے میں سوچتے رہے۔ عبادت بریلوی لکھتے ہیں: ‘بالآخر انھوں نے میری تجویز پر عمل کیا اور راجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر حبیب سیٹھ کو خط لکھنے کی درخواست کی۔ راجہ صاحب نہایت شریف انسان تھے۔ انھوں نے آغا حسن عابدی کے لیے خط لکھ دیا اور کہا کہ ‘یہ خط لے کر آپ بمبئی چلے جائیے، انشااللہ کام ہو جائے گا۔

دوسرے دن یہ خط لے کر آغا حسن عابدی عبادت بریلوی کے گھر پر آئے اور کہنے لگے ‘یار! راجہ صاحب نے ازراہ نوازش خط تو لکھ دیا ہے۔ لیکن میں الجھن میں ہوں۔ کیا کروں؟ مجھے رائے دو!۔’
عبادت صاحب نے کہا ‘یہ خط لے کر آپ فوراً بمبئی چلے جایئے۔ حبیب سیٹھ سے ملیے، یہ خط انھیں پہنچائیے اور حبیب بینک میں افسر کے عہدے پر فائز ہو جائیے۔‘
آغا حسن عابدی عبادت بریلوی کی بات مانتے تھے، اس لیے ان کے کہنے پر بمبئی جانے کے لیے تیار ہو گئے اور ایک ہفتے بعد بادل نخواستہ بمبئی روانہ ہو گئے۔
تین چار دن کے بعد بمبئی سے عبادت بریلوی کے نام آغا حسن عابدی کا خط آیا۔ لکھا تھا: ‘راجہ صاحب کے خط نے بڑا کام کیا۔ مجھے ملازمت مل گئی، یہاں ماحول اچھا ہے، بمبئی شہر بہت خوب صورت ہے۔ میرا دل یہاں لگ گیا ہے۔ ابھی ٹریننگ ہو رہی ہے۔ تین چار مہینے میں ٹریننگ مکمل ہو گی اور حبیب بینک کی مختلف برانچوں کی تنظیم کا کام میرے سپرد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرنا ہو گا۔‘
عبادت بریلوی کہتے ہیں کہ یہ خط پڑھ کر انھیں بے حد خوشی ہوئی
آغا حسن عابدی اپنے بینکنگ کے کاموں کے سلسلہ میں دہلی آتے جاتے رہے۔ پھر پاکستان بن گیا۔ عبادت بریلوی اورینٹل کالج لاہور سے وابستہ ہو گئے، آغا حسن عابدی پاکستان آ گئے اور انھوں نے حبیب بینک میں ترقی کے مدارج طے کرنا شروع کر دیے

سہگل خاندان سے تعلقات اور یونائیٹڈ بینک کا قیام
حبیب بینک میں ملازمت کے دوران آغا حسن عابدی کے تعلقات پاکستان کی کاروباری شخصیات سے استوار ہونا شروع ہوئے جن میں سہگل خاندان کا نام سرفہرست تھا۔ 1959 میں حبیب خاندان نے سہگل خاندان کو ایک ایسے کاروباری معاملے میں بینک گارنٹی دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جس میں حبیب خاندان خود بھی دلچسپی رکھتا تھا۔آغا حسن عابدی نے حبیب خاندان کو ایسا کرنے سے باز رکھنا چاہا مگر ان کی ایک نہ سنی گئی نتیجہ حبیب بینک سے آغا حسن عابدی کی علیحدگی کی صورت میں نکلا۔
سہگل خاندان نے آغا حسن عابدی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور یوں سات نومبر 1959 کو یونائیٹڈ بینک کا قیام عمل میں آ گیا جس کے لیے سرمایہ سہگل خاندان نے فراہم کیا تھا اور اس کے پیچھے ذہن آغا حسن عابدی کا تھا۔
پاکستان کے بینکنگ کے افق پر اگلے 10-12 برس یونائیٹڈ بینک کے عروج کے برس تھے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ ہی نہیں چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی اس کی شاخیں کھلتی چلی گئیں۔ مغربی پاکستان کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی یونائیٹڈ بینک اپنی ساکھ بنا رہا تھا۔ سہگل گروپ کی سرپرستی کی وجہ سے پاکستان کا دیگر کاروباری حلقہ بھی یونائیٹڈ بینک پر اعتماد کر رہا تھا۔
1970 کے لگ بھگ ملک بھر میں یونائیٹڈ بینک کی 912 شاخیں کھل چکی تھیں جن میں سے 224 شاخیں مشرقی پاکستان میں تھیں۔ بیرون ملک قائم ہونے والی 24 برانچیں ان کے علاوہ تھیں۔
مشرقی پاکستان میں آغا حسن عابدی کو صالح نقوی کی رفاقت میسر آئی جو مغربی پاکستان سے تبادلہ ہو کر مشرقی پاکستان بھیجے گئے تھے مگر انھوں نے اپنی صلاحیتوں سے مشرقی پاکستان کا کاروباری میدان فتح کر لیا تھا۔

ایک عالمی بینک کے قیام کا خواب
1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یونائیٹڈ بینک کو مشرقی پاکستان سے بوریا بستر سمیٹنا پڑا۔ صالح نقوی سقوط ڈھاکا سے بہت پہلے مغربی پاکستان آ چکے تھے۔ اب آغا حسن عابدی نے ایک عالمی بینک کے قیام کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ یکم جنوری 1974 کو جب حکومت پاکستان نے پاکستان کے تمام بینک قومی تحویل میں لیے تو آغا حسن عابدی اس بینک کے قیام کی تیاری مکمل کرچکے تھے۔
انھوں نے نو آزاد متحدہ عرب امارات کے سربراہ شیخ زید بن سلطان النہیان کا اعتماد حاصل کیا اور ان کی مالی اعانت سے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل کے نام سے ایک عالمی بینک کے قیام کا ڈول ڈال دیا۔ اس بینک کو لکسمبرگ میں رجسٹر کروایا گیا تھا۔
آغا حسن عابدی کا خواب تھا کہ وہ ورلڈ بینک کے طرز پر ایک عالمی اسلامی بینک قائم کریں جس کے سرمایہ کار مسلمان ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ بینک کمزور مسلمان ممالک کو بہت کم شرح سود پر قرض دے کر انھیں معاشی طور پر مضبوط کرے اور تیسری دنیا کے محروم، پسماندہ اور کم مراعات یافتہ اقوام بھی ترقی یافتہ اقوام کے دوش بدوش آگے بڑھ کرسکیں۔
آغا حسن عابدی، شیخ زید بن سلطان النہیان کی اعانت سے اپنے بینک کو ترقی دیتے چلے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے 72 ممالک میں بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) کی چار سو سے زیادہ شاخیں قائم ہو گئیں، اس کے ملازمین کی تعداد سولہ ہزار تک پہنچ گئی اور یہ دنیا کا ساتواں بڑا بینک بن گیا۔
بی سی سی آئی کہنے کو صرف ایک بینک تھا مگر اس کے اہداف بہت اعلیٰ تھے۔ اس نے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے ممالک کی بہبود کے لیے مختلف منصوبوں پر کام شروع کیا۔
آغا حسن عابدی نے سب سے پہلے تعلیم کے فروغ پر توجہ دی اور کراچی سے لے کر صوابی تک متعدد ادارے قائم کیے جن میں کورنگی اکیڈمی، فاسٹ یونیورسٹی اور غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سرفہرست تھے۔ بے گھر افراد کے لیے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ اور نادار فن کاروں کی فلاح و بہبود کے لیے انفاق فاؤنڈیشن جیسے اداروں کا قیام ساری دنیا کے لیے حیران کن تھا۔ بی سی سی آئی نے صحت عامہ پر بھی خرچ کرنا شروع کیا اور کراچی میں ایس آئی یو ٹی اور لیڈی ڈفرن ہسپتال کو بھی خطیر عطیات سے نوازا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.