’’میں تو ابھی آیا ہوں، 72سالوں میں کام کیوں نہیں ہوا؟یہ آپ کو بتانا ہے۔۔۔‘‘ عاصم سلیم باجوہ شدیدغصے میں آگئے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اہم رُکن کو کھری کھری سُنا دیں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ اورنج لائن ٹرین کو بہت جلد عوام کے لیے کھول دیا جائے گا، یہ منصوبہ سیاسی نہیں اور نہ ہی ہم کسی منصوبے کو سیاسی بنائیں گے، اورنج لائن ٹرین کا کچھ سول ورک باقی رہ گیا تھا، اس منصوبے کے لیے سولہ سو افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے

چیئر مین سی پیک اتھارٹی جنر ل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ ہمیں احکامات ملے تھے کہ کوئی بھی پراجیکٹ رکنا نہیں چاہیئے، آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر سو سے زائد منصوبوں پر سائن کیے گئے، سستی بجلی کے حصول کے لیے ہائیڈرل پاور پراجیکٹ پر کام کرنا ہمارا منصوبہ ہے، ہمارے منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں ، کوہالہ پاور پراجیکٹ پر بھی دستخط ہوچکے ہیں، اب مزید پراجیکٹس تھر میں شروع کیے جائیں گے، بلوچستان اور خضدار کی ترقی کے لیے بھی کئی منصوبے ہیں ، وزیراعظم کی جانب سے سترہ بلین روپے سدرن گرڈ کے لیے منظور کیے گئے ،گواردر پورٹ پر بجلی ایران سے آ رہی ہے جس کے بہت سے مسائل ہیں،تھر میں بلاک ٹو میں کام ہو رہا ہے،شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ مل کر تھر کے بلاک ون پر کام ہو رہا ہے، درآمد کوئلے سے فیول کی پیداوار پر جائیں گے۔ عاصم سلیم باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ کوئلے کے ذریعے کیمکل نکالنے کے حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے، گیس کے معاملے پر بھی کام ہورہا ہے، کوئلے کی کان کو نکالنے کے لیے ہمیں ایک سو پانچ کلومیٹر کی ریلوے لائن درکار ہوگی، اس حوالے سے پلاننگ کمیشن سے بات چیت کا سلسلہ جارہی ہے، تمام پارجیکٹوں پر کام وزراتوں کے ساتھ مشاورت سے ہورہا ہے، گلگت بلتستان میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا ہے اس حوالے سے چینی کمپنیوں کے ساتھ بجلی اور سڑکیں بنانے پر مشاورت جاری ہے۔سینیٹر کبیر کی جانب سے بلوچستان میں ترقی نہ ہونے کا شکوہ پرعاصم سلیم باجوہ برہم نظر آئے اور کہا کہ سی پیک کے تحت ایک کلو میٹر سڑک نہ بننے کی بات غلط ہے ،سی پیک تو اب آیا ہے ،آپ وہاں کے لیڈر ہیں ،72 سالوں میں ترقی کیوں نہیں ہوئی؟اس کا جواب آپ کو ہی دینا ہے ۔میں نے سفر کا آغاز ابھی کیا ہے تھوڑا صبر کرلیں۔ عاصم سلیم باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے پر کہیں کوئی کام نہیں رکا ، ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب تک

سڑکیں بچھانے پر کام جاری ہے، رشکئی کے لیے خصوصی اقتصادی زون کا افتتاح بھی بہت جلد کر دیا جائے گا، فیصل آباد اقتصادی زون میں سرمایہ کاری کے لیے بھی درخواستیں مل رہی ہیں، دھابیجی کے لئے خصوصی اقتصادی زون میں بھی چینی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی جارہی ہے، حب انڈسٹریل زون کے لیے بھی اضافی زمین حاصل کر رہہے ہیں، سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ میں زراعت کے شعبے کو شامل کیا جارہا ہے۔قائمہ کمیٹی کی جانب سے سی پیک کے لیے جاری منصوبوں کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، اس منصوبے پر ساری سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، اور یہ منصوبہ دُرست سمت جا رہا ہے۔ اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت معنقد ہوا، ارکان کمیٹی اور شرکاء کو ماسک پہنے اور ایس او پیز مطابق دور بیٹھنے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں سینیٹر عتیق شیخ، سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر غوث محمد خان، سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف شریک ہوئے، اجلاس میں سینیٹر سراج الحق، سینیٹر نزہت صادق، سینیٹرستارہ ایاز، سید محمد علی شاہ جاموٹ، سینیٹر میر کبیر احمد شامل تھے ۔اس موقع پر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سی پیک پورے ملک کے لئے اہمیت کے حامل ہے، سی پیک پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رہا ہے، سی پیک کو آگے بڑھنا چاہئے، سی پیک کے حوالے سے جو تبدیلیاں لائی گئی ہے اس میں سب کی شراکت داری ہے کہ نہیں؟ سی پیک اتھارٹی میں صوبوں کی شراکت داری انتہائی اہم ہےگوادر کے بغیر سی پیک آگے نہیں بڑھ سکتا، خبریں آ رہی کے وزیر کا اختیار کم گیا جا رہا ہے، اس خبر کی تردید نہیں کی گئی، اگر خبر صحیح ہے تو وزیر منصوباندی کا اختیار کیوں کم کیا جا رہا ہے؟ کیا سی پیک اتھارٹی کسی وزارت کی نگرانی میں نہیں ہوگی؟

Sharing is caring!

Comments are closed.