بریکنگ نیوز: وہ کپتان ہی کیا جو ہار جائے ۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے کشتیاں جلا دیں، اپنے وزیروں اور ٹائیگروں کو اب تک کا سب سے بڑا حکم جاری کردیا

لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے لاہورمیں راوی کے کنارےنیا شہر بنانے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ‘اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 50ہزار ارب روپے لگایاگیاہے جبکہ وزیراعظم نے کہاہے کہ نیاشہرنہ بنایاتولاہور کا حال بھی کراچی جیساہوجائیگا.گورننس کی بہتری ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے‘ آئندہ نسلوں کے لئے ہمیں ملک کا

نظام ٹھیک کرنا ہے‘ کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں، تھانہ کلچر تبدیل‘محکموں میں جزا و سزا کا نظام متعارف کرایا جائے‘سیاسی دباؤ کے بغیر میرٹ پر کام کیا جائے۔دو سال بہت مشکل سے گزارے ہیں ، ملک تباہ شدہ حال میں ملا جسے چلانا ہمارے لئے بڑے معرکہ سے کم نہ تھا‘این آر او والے ہرجگہ اکٹھے ہوجاتے تھے اور انہوںنے مصیبت ڈالی ہوئی تھی کہ ہمیں این آردو تو ایف اے ٹی ایف کا بل پاس اور کشمیر کے ایشو پر سپورٹ کریںگے‘اب ہمیں آگے بڑھناہے ‘ ترقی اورروزگاردینے کا وقت آگیا ہے۔اللّٰہ تعالی نے ہمیں کرونا کے عذاب سے بچا لیا ‘اب اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو یہ نا شکری ہو گی‘کشتیاں جلادی ہیں اور اب میں نے پیچھے نہیں ہٹنا ‘پنجاب میں نچلی سطح پر بہت کرپشن ہے‘مجھے پتہ ہے پولیس اور پٹوار کلچر میں کرپشن ہو رہی ہے‘پولیس اور بیوروکریٹس کو بہت زیادہ الاؤنسز دیئے‘ تنخواہیں بھی بہتر کر دیں‘ اب رزلٹ دیں۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کودورہ لاہور کے دوران عمران خان سے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی‘اس موقع پر ارکان اسمبلی وزیراعظم کے سامنے پھٹ پڑے اور کہاکہ پنجاب میں ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیزکھل کر کرپشن کررہے ہیں ۔ ممبران قومی اسمبلی کی شکایات پر وزیراعظم نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو اگلے ہفتے فیصل آباد جانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی ترقیاتی و انتظامی معاملات ہیں انہیں فوری حل کیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پتہ ہے

پولیس اور پٹوار کلچر میں کرپشن ہو رہی ہے‘بیورو کریسی حکومت کا ساتھ نہیں دیتی‘ہر جگہ مسائل ہی مسائل ہیں۔ادھرجمعہ کے روز شاہدرہ کے علاقہ میں ”راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ “ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ یہ پراجیکٹ لاہور کو بچانے کا منصوبہ ہے، اس سے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی اور آنے والے دنوں میں لاہور کو کراچی جیسے خطرناک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔راوی سٹی اسلام آبادکے بعد پاکستان کا دوسرا منصوبہ بندی والا شہر ہے جس میں 13شہر آباد ہوں گے جبکہ ایک کلومیٹر وسیع اور 46کلومیٹر لمبی جھیل بھی اس میں شامل ہوگی، مذکورہ پراجیکٹ 1لاکھ 10ہزار ایکٹر پر محیط ہو گا جسے آلودگی سے پاک کرنے کےلئے 60لاکھ پودے لگائے جائیں گے ۔راوی سٹی لاہور کو بچانے کا 50ہزار ارب روپے کا منصوبہ ہے جس میں پرائیوٹ پارٹنر شپ بھی شامل ہے۔اوورسیز پاکستانی اس میں سرمایہ کاری کریں‘ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل منصوبہ ہے جس کےلئے بڑی محنت درکار ہے اور یقینا مشکلات بھی آئیں گی‘ اگر یہ منصوبہ اتنا آسان ہو تا تو 2004سے گزشتہ دور تک کی حکومتیں اس کو بنا چکی ہوتیں جبکہ سابق حکمرانوں نے اورنج لائن ، میٹرو بس چلا کر 28ارب روپے کی سالانہ سبسڈیز دیں جس سے ملک مقروض ہوتا چلا گیا۔وزیراعظم کا کہناتھاکہ ہم نے دو سال بڑے مشکل گزارے ہیں‘ایک مشکل جاتی تو دوسری آجاتی تھی‘کچھ وقت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میںگزر گیا‘این آر او کا مجمع ہر جگہ اکٹھا ہو

جاتاتھااور انہوں نے مصیبت ڈالی ہوئی تھی کہ ہمیں این آردو تو ایف اے ٹی ایف کا بل پاس اور کشمیر کے ایشو پر سپورٹ کریں گے۔اب یہ ملک آگے بڑھے گا‘ میں نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور اب میںنے پیچھے نہیں جانا ‘اوور سیز پاکستانیوں کے پاس پاکستان کے جی ڈی پی سے زیادہ پیسہ پڑا ہوا ہے ۔دریں اثناءصوبہ پنجاب کے سول افسران بشمول انتظامی محکموں کے سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ریجنل پولیس افسران سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے معیشت کو بے حد نقصان پہنچا ہے‘ کرپشن ہمیشہ اوپر اور ایلیٹ طبقے سے شروع ہوتی ہے‘یہ ملک ہمارا ہے، ہمارا جینا مرنا اسی ملک میں ہے۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ غریب آدمی سے ہمدردی رکھیں، تھانہ کلچر ختم کر دیں‘ آپ پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہوگا۔میں ہر اس افسر کے ساتھ ہوں جو میرٹ پر کام کرے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو غلط کام یا کرپشن کرے گا، اس پولیس افسر اور بیوروکریٹ کو فارغ کیا جائے گا‘پنجاب میں نچلی سطح پر بہت کرپشن ہے، جسے ہر جگہ سے ختم ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے پولیس اور پٹوار کلچر ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور بیورو کریٹس کو بہت زیادہ الاؤنسز دیئے، تنخواہوں بھی بہتر کر دیں، اب رزلٹ دیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یکساں نصاب تعلیم سے ہی معاشرے میں امتیازی سلوک ختم کیا جا سکتا ہے‘تعلیم کے ذریعے ہی اصل ترقی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبہ پنجاب کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.