ن لیگی اور پیپلز پارٹی کے کارکنان غائب۔۔۔!!! لاہور سے نکلتے ہی مولانا فضل الرحمان مایوس، جمعیت کو حیران کُن صورتحال کا سامنا

لاہور (نیوز ڈیسک ) لاہور سے نکلتے ہوئے مارچ میں لوگوں کی انتہائی کم تعداد نے مولانا کو مایوس کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ لاہور سے اسلام آباد کے لیے نکل چکا ہے جس میں جمیعتِ علماء اسلام ف کے کارکنان شامل ہیں۔ مولانا اپنے کنٹینر پر موجود ہیں لیکن مارچ میں لوگوں کی انتہائی کم تعداد نے انہیں مایوس کیا ہے۔

اس حوالے سے مولانا کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں ان کے چہرے پہ مایوسی دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے 15لاکھ لوگ مارچ کیلئے اسلام آباد لانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ان کے مارچ میں اس دعوے کی نسبت بہت کم لوگ موجود ہیں۔ لاہور سے نکلتے ہوئے مولانا کے ساتھ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان بھی موجود نہیں ہیں حالانکہ دونوں جماعتوں نے مولانا کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔اسلام آباد روانہ ہونے سے قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے آج کی گئی پریس کانفرنس میں کہا کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں گے۔ انہوں نے آزادی مارچ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دھرنا نہیں ایک تحریک ہے، ہم نے کبھی دھرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ایسا نہیں کہ اسلام آبادپہنچنے پر نتائج نہ ملےتوتحریک رک جائے گی ، میاں صاحب سے ملنے کے لئے جانا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز نے ان سے ملاقات کروانے سے منع کر دیا۔ ڈاکٹرز کے منع کرنے کی وجہ سے میں سروسز اسپتال نہیں جا رہا۔ خیال رہے کہ اپوزیشن کا آزادی مارچ کراچی اور ملتان سے ہوتا ہوا لاہور پہنچا ۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنوں نے استقبال کیا، مارچ کی آج اسلام آباد روانگی ہوگی۔ آزادی مارچ کے شرکاء نے مینار پاکستان پر ڈیرے ڈالے جہاں انہیں ناشتہ بھی فراہم کیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.