آیا صوفیہ میوزیم مسجد میں تبدیل: کیا ایتھنز کی مسجد خطرے میں؟

 ترک شہر استنبول کے آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کیے جانے کے بعد سے یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے مسلمانوں میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ان کی اُس سرکاری عبادت گاہ کے قیام کا منصوبہ کھٹائی میں نہ پڑ جائے، جو قریب ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے التوا کا شکار ہے۔

ایتھنز یورپ کا وہ واحد دارالحکومت ہے جہاں اب تک کوئی مسجد نہیں تھی۔ اس شہر میں ایک مسجد کے قیام کا پروجیکٹ 2007 ء میں لانچ ہوا تھا تاہم اس پروجیکٹ کو فوری طور سے یونان کے با اثر قدامت پسند آرتھوڈوکس چرچ کی پر زور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے قوم پرست حلقے نے بھی اس مخالفت کا بھر پور ساتھ دیا۔امام عطا النصیر ایتھنز کے ایک اپارٹمنٹ میں ایک عارضی مسجد کے منتظم ہیں،کہتے ہیں،” میرا خیال ہے اس واقعے کے بعد ایتھنز میں اس سرکاری مسجد کا قیام، جس کے ہم دس سالوں سے منتظر تھے، اور بھی دشوار ہو سکتا ہے۔‘‘  امام عطا نے یہ بیان استنبول کے ایا صوفیا میوزم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے اعلان اور اس کے لیے کئے گئے عملی اقدامات کے تناظر میں دیا۔عثمانیوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ پر قبضہ کرنے کے بعد چھٹی صدی کا ایک فن تعمیراتی شاہکار آیا صوفیہ بازنطینی باسیلیکا کو سن 1453 میں ایک مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ سن 1934 میں جمہوریہ ترک کے بانی مصطفی کمال اتاترک نے اس یادگار کو سیکولر ترکی کی علامت کے طور پر ایک میوزیم میں بدل دیا۔ اس تاریخی مقام کی شناخت ایک بار پھر ابھی حال ہی میں جولائی میں ترکی کی ایک اعلیٰ عدالت کے اُس فیصلے کے ساتھ تبدیل ہوگئی، جس میں آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ایتھنز کی پہلی مسجد ابھی زیر تعمیر ہے۔ اس کے ایڈمنسٹریٹیو بورڈ یا انتظامی بورڈ کے ایک رُکن اشیر حیدر نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اُن خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی جن میں استنبول کی متنازعہ آیاصوفیہ مسجد کے پس منظر میں ایتھنز کی مسجد کی مخالفت کے امکانات کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ اشیر حیدر نے اپنے بیان میں کہا،” یہ تاثر بالکل غلط ہے

کہ ایتھنز میں ریاستی فنڈنگ سے بننے والی مسجد کے آغاز میں آیا صوفیہ والے معاملے کے سبب تاخیر ہوسکتی ہے، ہاں مسجد کے آغاز میں کووڈ  19 کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی صورتحال ضرور اثر انداز ہوئی ہے۔ اس مسجد کا موجودہ انتظامی بورڈ 10 اگست کو اپنی تین سالہ مدت پوری کر رہا ہے جبکہ گزشتہ ماہ ہی وزارت مذہبی امور نے مسجد کے نئے انتظامی بورڈ کی تشکیل کے لیے ایتھنز میں بسنے والی مسلم کمیونٹی سے امیدواروں کے نام طلب کیے تھے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایتھنز کی مسجد کی تعمیر تقریباً مکمل ہو گئی ہے۔ ہر چیز فنکشنل ہے اور مسجد کا باقاعدہ آغاز اسی سال ہوجائیگا۔‘‘اُدھر عارضی مسجد کے امام عطا النصیر مسجد کے معاملے میں پائے جانے والے  خدشات کے تناظر میں کہتے ہیں، ”میرے خیال میں مسجد ایک مسجد ہی رہنا چاہیے۔ اسے چرچ یا کچھ بھی نہیں بننا چاہیے۔ جس طرح مسیحی آیا صوفیہ کے بطور چرچ رہنے کی توقع کرتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی توقع کرتے ہیں کہ یہ مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کی شکل میں قائم رہے۔‘‘توقع ہے کہ ایتھنز کی سرکاری مسجد کا افتتاح شہر کے شمال مشرق میں ، صنعتی ضلع ایلایوناس میں موسم خزاں کے آخر تک ہو جائے گا۔ یہ مسجد تاہم مینار کے بغیر اور یونانی ریاست کی نگرانی میں ہوگی۔گزشتہ برسوں کے دوران تین لاکھ مسلم باشندوں کی کمیونٹی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایتھنز میں متعدد عارضی مساجد اپارٹمنٹس تہ خانوں اور یہاں تک کہ شیڈ میں بنائی گئیں۔ امام عطا النصیر کا خیال ہے کہ ایتھنز میں عثمانیوں کی تاریخی مساجد جیسے کہ موناسٹیراکی اسکوائر کی قدیم مسجد جو ایک میوزیم میں تبدیل ہو چُکی ہے کو مسلمانوں عبادت گاہ کے طور پر زیر استعمال لایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن خود یونانی رہنماؤں کو یہ تجویز پیش کر چُکے ہیں۔ تاہم یہ معاملہ یونان کے لیے ایک نازک اور حساس موضوع کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یونان انیسویں صدی ) اپنی آزادی تک(  سلطنت عثمانیہ کے دور میں عثمانی حکمرانوں کے قبضے میں رہ چکا ہے۔ 

Sharing is caring!

Comments are closed.