لاوارث لاشیں ۔ افسوسناک انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں لاوارث میتوں کو تجربات کے لئے میڈیکل کالجوں یا دیگر اداروں کو دینے کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں۔بیشتر اجسام مینٹل ہسپتال سے آتے ہیں جنکا کوئی وارث نہیں ہوتا، یہ اجسام اناٹومی ایکٹ 1832کے تحت اداروں کو دیے جاتے ہیں۔ یہ انکشاف پنجاب انفارمیشن کمیشن میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ

کے تحت دی گئی درخواست کی سماعت کے دوران ہوا ۔ لاہور کے رہائشی شہباز اکمل جندران کی طرف سے کمیشن میں درخواست دائر کی گئی کہ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کو لاوارث میتوں کے حوالے سے سوالات بھیجے جن میں پوچھا گیا تھا کہ کس قانون کے تحت لاوارث اجسام تجربات کیلئے میڈیکل کالجوں دیے جاتے ہیں، اس کا میکنزم کیا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی نے تحفظ بنیاد اسلام بل کیخلاف احتجاج کیااوراس پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کر کے تحفظ بنیاد اسلام بل قانون بننے سے روکدیا گیا۔اتفاق رائے سے ترامیم کا فیصلہ،حکومتی ارکان اسمبلی نے اسے حکومت کیخلاف سازش قرار دیدیا۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو یقین دہانی کرادی کہ علماء کی رائے سے ترامیم کرینگے، جب تک بل پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوگا اس پر مزید پیش رفت نہیں ہوگی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 15 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں ہی متعدد ارکان اسمبلی کھڑے ہوگئے اور ارکان نےنکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت چاہی۔پیر اشرف رسول نے انکشاف کیا کہ یہ بل شہزاد اکبر کے کہنے پر اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔ تحفظ بنیاد اسکام بل کی حمایت کرنے پر تحریک انصاف کے رکن سید یاور عباس بخاری نے ایوان سے معافی مانگ لی۔ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ بل کی منظوری کے وقت ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا، اس بل سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی، اسمبلی کسی شخص کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسکا فرقہ کیا ہوگا۔بل کو واپس اسمبلی میں لاکر اس پر تمام مکاتب فکر کے افراد پر علماء کی کمیٹی بنائی جائے اس بل کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔ارکان نے کہا بتایا جائے کہ کیا یہ بل حکومت کا ہےاوراگر حکومت کا ہے تو کابینہ کی منظوری دکھائی جائے۔ یہ بل اگر پرائیویٹ طور پر منظور کرایا گیا تو کس کمیٹی سے منظور ہوا ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.