پاکستان میں اب کتنے لاکھ روپے کی خریداری پر ذریعہ آمدن بتانا لازمی ہو گا ؟ حکومت نے واضح کردیا

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) منی لانڈرنگ جرائم پر جرمانے اور سزائیں سخت اور جیولرز ، وکلاء رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو ریگولیٹ کیا جائیگا ،20 لاکھ روپے سے زائد خریداری پر ذرائع آمدن سمیت مصرف اور ویگر معلومات فراہم کر نا ہونگی منی لانڈرنگ پر جرمانے ،سزائیں سخت تجویز ،جیولرز ، وکلاء

،رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو ریگولیٹ کیا جائیگا،ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے مطابق منی لانڈرنگ مجوزہ ترمیمی بل 2020 پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پیر کو غور کیا جائیگا ۔انفرادی سطح پر منی لانڈرنگ پر اڑھائی کروڑ جرمانہ اور10سال قید،کمپنی یا فرم کی صورت میں 10کروڑ جرمانہ ،10سال قید تجویز کی گئی ہے، قائمہ کمیٹی خزانہ میں منی لانڈرنگ ترمیمی بل پر اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے اور انہوں نے بل کی مجوزہ ترمیمی شقوں پر اعتراضات کیے ہیں ۔ امکان ہے کہ منی لانڈرنگ ( دوسرا) ترمیمی بل 2020 پیرکو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ سے منظور کر لیا جائیگا۔’ بل کے مسودے کے مطابق جیولرز ، وکلاء ، رئیل سٹیٹ ایجنٹس ، چارٹرڈ اکائونٹنٹ اور قیمتی پتھروں کا کاروبار کرنیوالوں کو ریگولیٹ کیا جائے گا ۔ منی لانڈرنگ جرائم کی سزائوں میں اضافہ کردیا جائیگا ۔ انفرادی سطح پر منی لانڈرنگ میں ملوث فرد پر جرمانہ 50لاکھ روپے سے بڑھا کر اڑھائی کروڑ روپے تک اور10 سال تک سزائے قید اور کسی کمپنی ، ایسوسی ایشن ، فرم کے ڈائریکٹر، افسر ، ملازم یا لیگل پرسن ہونے کی صورت میں جرمانہ 10کروڑ روپے تک عائد ہوگااور 10سال قید کی سزا ہوگی ، جیولرز ، وکلاء ، رئیل سٹیٹ ایجنٹس، چارٹرڈ اکائونٹنٹ ، قیمتی پتھروں کا کاروبار کرنیوالوں کو ریگولیٹ کیا جائیگا، 20 لاکھ سے زائد خریداری پر ذرائع آمدن بتانا ہو گا اور خریداری کی وجوہات اور دیگر معلومات دینا ہوں گی ۔ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے مطابق منی لانڈرنگ

کے قانون کو مزید سخت کرنے کےلیے متعدد ترامیم کے ساتھ مجوزہ بل میں متعدد نئی شقیں شامل کی گئی ہیں ، منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنیوالی ایجنسیوں میں نیب کو شامل کرنے کی بھی تجویز ہےجبکہ دیگر اداروں میں ایف آئی اے ، ایف بی آر، ایس ای سی پی ، اسٹیٹ بنک آف پاکستان ، انٹی نارکوٹیکس فورس ، کسٹم انٹلی جنس و انوسٹی گیشن ، ان لینڈر یونیو انٹیلی جنس و انوسٹی گیشن ، دہشتگردی کے خلاف کام کرنیوالے صوبائی محکمے شامل ہونگے ۔ بل میں مجوزہ ترمیم کے تحت منی لانڈرنگ ایکٹ پر موثر عملدرآمد کےلیے ایک نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی جائیگی جو ریگولیٹرز کی نگرانی کرے گی وفاقی حکومت کو منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں تک مالیاتی رسائی روکنے کےلیے وفاقی حکومت کو قومی پالیسی مرتب کرنے کی سفارش کرے گی اور منی لانڈرنگ سے متعلق دیگر امور کو دیکھے گی اس کمیٹی کے سال میں کم از کم دو اجلاس ہونگے، وزیر خزانہ یا مشیر خزانہ نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین ہونگے ، جبکہ ممبران میں وزیر خارجہ ، وزیر قانون، وزیر داخلہ ، وزیر اقتصادی امور ، گورنر سٹیٹ بنک ، چیئرمین ایس ای سی پی ، ڈی جی ملٹری آپریشن ، ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی ایف ایم یو ، ڈی جی ایف اے ٹی اے ایف سیل ہونگے جبکہ وفاقی حکومت کسی بھی دوسرے عہدیدار کو بھی ممبر نامزد کر سکتی ہے، ڈی جی ایف ایم یو نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر فرائض انجام دیں گے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.