بدعنوانی کے الزام میں لاہور سے گرفتار ہونیوالی گجرات کی خاتون ڈپٹی کمشنر حفضہ رانی کی پشت پناہ اور سفارشی شخصیت کون نکلی ؟ گیسٹ ہاؤس میں خفیہ کمرہ کس نے دلوایا ؟ حیران کن انکشافات

لاہور(ویب ڈیسک) انسداد بدعنوانی سیل گجرات نے کروڑوں روپے کی خورد برد میں ملوث ڈپٹی کمشنر ریونیو رانی حفصہ کنول کو گرفتار کرلیا۔اینٹی کرپشن حکام گجرات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ریونیو رانی حفصہ کنول پر ریت کے ٹھیکوں کی فروخت، کوآپریٹو زمین کا انتقال، کمپنیوں سے دھوکے اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے

جب کہ ان کے ساتھ اے ڈی مائنز گجرات عثمان احمد اور فاریسٹ آفیسرعماد احمد کے خلاف بھی مقدمات ہیں۔حکام اینٹی کرپشن کے مطابق حفصہ رانی کنول نے تعیناتی کے دوران گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال اور بینک اکاؤنٹس اپنی ہمشیرہ، والدین، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کے نام کروائے جس کی رپورٹس ڈی سی ریونیو نے اعلی حکام کو دیں جن کے حکم پر حفصہ رانی کی گرفتاری عمل میں آئی۔حکام کے مطابق سابق اے ڈی سی آر گجرات ملزمہ رانی حفصہ کنول اہم شخصیت کے نام پر چنبہ ہاؤس میں بک کیے گئے کمرہ میں روپوش تھی، انہیں انسداد بدعنوانی کی خصوصی ٹیم نے گزشتہ رات گرفتارکیا اور ویمن پولیس اسٹیشن میں بند کروا دیا تھا، انسداد بدعنوانی کے ادارے نے ایک روزہ ریمانڈ حاصل کرکے سابق اے ڈی سی آر رانی حفصہ کنول کو تفتیش کے لیے گجرات منتقل کردیا۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ہمیں اللہ سے زیادہ ایک ڈکٹیٹر کا خوف ہوتا ہے اور مارشل لاء سے بہتر ہے دوبارہ انگریزوں کو حکومت دے دی جائے۔سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خود کو نیب افسر ظاہر کرکے فراڈ کرنے والے ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں نیب پراسیکیوٹر، ڈی جی نیب بھی عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ محمدندیم مڈل پاس ہے اور بہاولپور سے کیسے نیب افسربن کرکال کرتا تھا، ملزم نے ایم ڈی پی ایس او کو ڈی جی نیب بن کر کال کی، مڈل پاس ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے لیکن ملزم کے پاس بڑے بڑے افسران کے موبائل نمبر کیسے آگئے۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی شکایات ملیں، ایم ڈی پی ایس او نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.