پاکستان سے کورونا وائرس کا خاتم، فیس ماسک، سینئٹائزر اور کرونا سے متعلقہ دیگر سامان ذخیرہ کرنیوالے ذخیرہ اندوز تاجروں کے کروڑوں روپے ڈوب گئے

لاہور(نیوز ڈیسک) کرونا میں کمی نے موقع پرست تاجروں اور سرمایہ کاروں کو کروڑوں کا نقصان پہنچادیا۔ سینیٹائزرز ، ماسک اور دیگر سامان ذخیرہ کرنیوالے تاجروں کے کروڑوں روپے ڈب گئے۔کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل کمی موقع پرست سرمایہ کاروں نے کیلئے مشکلات لے آئیں، کسیز میں کمی کے باعث موقع پرست سرمایا کاروں کے کروڑوں روپے

ڈوب گئے ہیں، کرونا سے بچاؤ کے لیے فیس ماسک، ہینڈ سینیٹائزر، گلوز میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے اندازے غلط ثابت ہوگئے، شہریوں نے کیسز میں کمی کے ساتھ ہی ماسک اور دیگر سامان کی خریداری ترک کردی ہے۔فیس ماسک کی مانگ میں مسلسل کمی کی وجہ سے بلیک میں 1400 روپے میں فروخت ہونے والا این 95 ماسک قیمت کم ہوکر ڈیڑھ سو روپے میں فروخت ہورہاہے، اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کٹس خریدنے والی نجی لیبارٹریز کو بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے،نیبولائزر، آکسیجن سلنڈر سمیت دیگر آلات کی مانگ میں مسلسل کمی سے کاروباری افراد کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہاہے۔کرونا سے بچاؤ سامان کی راولپنڈی میں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی گروپ سے منسلک کاروباری شخصیت نے بتایا کہ کرونا کے پاکستان میں کرونا کی شدت سامنے آتے ہی سینکڑوں موقع پرست سرمایہ کاروں نے کرونا سے بچاؤ اور کرونا کے علاج میں استعمال ہونے والے ماسک، پی پی ایز، جراثیم کش ادویات اور دیگر آلات میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی تھی تاکہ اربوں روپے نفع حاصل ہوسکے لیکن گیم الٹی پڑگئی اور حیران کن طور پر کرونا ایکسپرٹ اور عالمی اعداد وشمار کے برعکس پاکستان میں کرونا متاثرین نہایت تیزی سے کم ہورہے ہیں۔کرونا وائرس کی صورتحال کنڑول میں آنے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران 17 اموات اور782 افراد کرونا وائرس کا شکارہوئے ہیں، ملک کے 735 اسپتالوں میں 1ہزار294 مریض زیرعلاج جبکہ 163 مریض وینٹی لیٹر پرموجود ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 20 ہزار 461 ٹیسٹ میں سے 782 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ، سندھ ایک لاکھ 22 ہزار 759 مریضوں کیساتھ سر فہرست ، پنجاب 94 ہزار40 ،، خیبرپختونخواہ 34 ہزار432 ،، اسلام آباد 15 ہزار182،، بلوچستان 11 ہزار 821،، مریض ہوچکے ہیں، جس کے بعد ملک بھرمیں متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 82 ہزار644 تک پہنچ گئی ہے،اب تک 2 لاکھ 58 ہزار99 مریض کرونا وائرس کوشکست دے چکے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.