بھارت اور چین کی 1962 کی جنگ کے دوران ایوب خان نے کشمیر پر حملہ کیوں نہیں کیا ؟

ایوب خان نے کشمیر کیوں نہیں لیا؟
یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ 62ء کی چین انڈیا جنگ میں ایوب خان نے کشمیر پر قبضہ کیوں نہیں کر لیا؟
جواب بہت سادہ سا ہے۔ پاکستان کو اس جنگ میں اتنا بڑا ایڈوانٹیج حاصل نہیں تھا جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔
چین کے ساتھ انڈیا کی صرف 22 ہزار فوج ہی لڑ رہی تھی اور وہ بھی ایک محدود سے علاقے میں۔ جب کہ ایکٹیو اور ریزرو ملا کر کل انڈین فوج اس وقت بھی 10 لاکھ سے اوپر تھی۔

یعنی انڈیا کی صرف 2٪ فیصد فوج چین کے ساتھ مصروف تھی باقی 98٪ فارغ تھی۔ نہ انڈیا کی ائر فورس اس جنگ میں حصہ لے رہی تھی اور نہ نیوی۔ وہ بھی فری تھی۔
یوں پاکستان کے لیے کوئی بہت بڑا ایڈوانٹیج نہ تھا۔
نیز یہ کوئی اچانک چین کا انڈیا پر نہیں تھا بلکہ ایک محدود سے متنازعہ علاقے میں تین سال سے جاری جھڑپوں کا تسلسل تھا۔ یہاں 1959ء سے چین اور انڈیا کی جھڑپیں چل رہی تھیں۔ یہ بڑی جھڑپ بھی ایک دو دن کی نہیں تھی بلکہ پورا ایک مہینہ چلتی رہی۔ اس وقت چین کی خواہش تھی کہ پاکستان بھی اس میں کودے اور آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول عبور کرے تاکہ انڈین فوج پر دو طرف سے دباؤ پڑے۔ کیونکہ چینی افواج کی اموات بھی ہورہی تھیں۔ 1500 کے قریب انڈین فوج کی ہلاکتیں ہوئی تھیں تو 700 سے اوپر چینی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔
روس جو اس وقت سپر پاور تھا کھل کر انڈیا کی مدد کر رہا تھا۔ روس نے انڈیا کو یقین دلایا کہ پاکستان اس جنگ میں کودا تو روسی ائر فورس پاکستان کو سبق سکھا دے گی۔ روس کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ اس جنگ سے لاتعلق رہے اور انڈیا کی براہ راست مدد نہ کی۔ لیکن انہوں نے ایک کام ضرور کیا۔ بروس ریڈل کی کتاب
JFK’s Forgotten Crisis: Tibet, the CIA and the Sino-Indian War
کے مطابق ایوب خان کو جنگ میں کودنے کے لیے پر تولتا دیکھ کر امریکہ اور برطانیہ دونوں نے پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر وہ اس جنگ میں کودا تو یہ سیٹو اور سنٹو معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی نیز دونوں ممالک پاکستان پر معاشی اور سفری پابندیاں عائد کردینگے۔ یاد ہے کہ اس وقت پاکستان صرف امریکہ سے ہتھیار لیا کرتا تھا۔ امریکہ نے ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی بھی دھمکی دی۔

ایوب خان کو اقتدار سنبھالے ابھی چار سال ہوئے تھے اور پاکستان تیزی سے معاشی طور پر مضبوط ہو رہا تھا۔ اس حالت میں ایک بڑی جنگ اس معاشی ترقی کو بریک لگا سکتی تھی۔ لیکن اگر پاکستان تمام خطرات مول لے کر بھی اور ہر چیز داؤ پر لگا کر بھی اس جنگ میں کود پڑتا تو بھی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہمیں کوئی خاص ایڈوانٹیج نہ تھا۔
اب ذرا ان سب چیزوں کو ذہن میں رکھ کر 65ء کی طرف آئیں جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کرنے میں پہل کر دی۔ اس وقت انڈیا کی تینوں مسلح افواج نیوی، ائر فورس اور بری فوج پاکستان کے ساتھ تقریباً تمام سرحدی پٹی پر جنگ میں مصروف ہوگئی۔ پاکستان نے انڈیا کی 70 فیصد ائر فورس کا صفایا کر دیا۔ ان کی بری فوج کے سب سے مضبوط حصے کو ٹینکوں کی لڑائی میں تباہ کر کے رکھا دیا اور انڈیا کے پاس لڑنے کے لیے ٹینک نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ اس حالت میں پاکستان نے چین سے دو تین بار کہا کہ وہ لداخ وغیرہ میں پیش قدمی کرے لیکن چین نے نہیں کی۔ جب کہ چین کو 65ء کی جنگ میں ہزار گنا بڑا ایڈوانٹیج حاصل تھا اس سے جتنا پاکستان کو 62ء کی جنگ میں تھا۔ 65ء میں انڈیا کی تقریباً پوری فوج پاکستان کے ساتھ مصروف تھی اور جیسا کہ اوپر عرض کیا ان کی ائر فورس اور ٹینکوں کا پاکستان نے صفایا کر دیا تھا۔
اور چین اس وقت بھی پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا بڑی دفاعی قوت رکھتا تھا۔ لیکن اس نے رسک نہیں لیا۔ چین نے جواز پیش کیا کہ اگر پیش قدمی کی تو روس اور امریکہ دونوں ناراض ہونگے اور روس چین پر حملہ بھی کر سکتا ہے۔ تب آپ سوچیں کہ ایوب خان جو پاکستان کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا اور کئی متضاد معاہدوں میں جھکڑا ہوا تھا روس اور امریکہ کا خطرہ مول لے کر انڈیا کی محض ایک چھوٹی سی جھڑپ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کیسے کرتا؟؟ ایوب خان سپاہ سالار تھا اور بہت اچھا سپاہ سالار تھا۔ مجھے یقین ہے کہ جنگوں کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتا تھا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اس وقت کے حالات سے بھی ہم سے زیادہ واقف تھا۔
لہذا اس وقت کے حالات اور انڈیا چین کی جنگ کی اصل صورتحال کو سمجھے بغیر یہ کہنا کہ ایوب خان کشمیر لے سکتا تھا لیکن نہیں لیا کم علمی اور حماقت ہے۔
تحریر شاہد خان

Sharing is caring!

Comments are closed.