پاکستانیوں کے لیے شاندار خبر : لوڈ شیڈنگ سے نجات ۔۔۔ 12 اگست کو ایک چارٹرڈ طیارے میں پاکستان آنے والے غیر ملکی انجینئرز کیا کارنامہ سر انجام دینے والے ہیں ؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخوا میں دریائے کنہار کیساتھ تعمیر کیے جانیوالے سکی کناری پن بجلی منصوبے کیلئے خصوصی پروٹوکول کے تحت 270 چینی ماہرین کو خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی ہے، چینگڈو سے تکنیکی ماہرین 12 اگست کو ایئر چائنہ کے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچیں گے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے آ ئرن برادر کی طرف سے خیر سگالی کے طور پر ماہرین کی آمد کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ سکی کناری خیبرپختونخواہ کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان میں دریائے کنہار پرتعمیر کیا جانے والا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہے۔2022ء میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والے اس منصوبے سے 870میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی جس سے پاکستان کی صنعتی ترقی اور معاشی بحالی میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق ایک اور خبر کے مطابق پیپلزپارٹی اور ن لیگ اے پی سی کے معاملے پر ایک پیج پر نہ آسکیں، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس مزید تاخیر کا شکار ہوگئی، پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی خاموشی کے بعد آئندہ کی حکمت عملی پر غور شروع کردیا،مسلم لیگ (ن) نے عید کے فوراً بعد اے پی سی سے متعلق یقین دہانی کرائی تھی، ذرائع نے کہاکہ عید گذرنے کے باوجود ن لیگ تاحال خاموش ہے، جسکے بعد پیپلزپارٹی نے اے پی سی بلانے پر غور شروع کردیا ہے، پیپلزپارٹی کے ذرائع نے کہاکہ غور کیا جا رہا ہے کہ اے پی سی بلاکر ن لیگ کو شرکت کی دعوت دی جائے،یہ مسلم لیگ (ن) پر منحصر ہے کہ وہ اے پی سی میں شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلز کی منظوری کے دوران بڑی جماعتوں کے کردار سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ناراض ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی نے حکومت کیخلاف اکیلے تحریک چلانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں،اس سلسلے میں مولانافضل الرحمٰن نے 7 ستمبر کو پشاور میں احتجاجی جلسے اور ریلی کی کال بھی دیدی ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک سے قبل مولانافضل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے تحریری معاہدے کی شرط بھی رکھ دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق نہ ہونے پر پیپلزپارٹی اور فضل الرحمن کا الگ الگ پرواز پر غورشروع کر دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.