پاکستان کے نئے نقشے میں مقبوضہ کشمیر سمیت کئی بھارتی علاقے شامل، بھارت چیخ اُٹھا

ممبئی (نیوز ڈیسک ) بھارت کا پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے نئے نقشہ پر ردعمل سامنے آ گیا ہے۔بھارت نے پاکستان کی جانب سے نئے نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو شامل کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قانونی حیثیت نہ عالمی ساکھ۔۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور گجرات کے کچھ علاقوں کو نئے پاکستانی نقشے میں شامل کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ان کے مطابق یہ ایک نام نہاد سیاسی نقشہ ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ نے پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے سیاسی نقشے پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پر دس توسیع پسندی اور ریاستی دہشت گردی کے ساتھ مٹھائی کا مظاہرہ کرنے والا ملک ہے۔بھارت ایسے بیانات سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی غیر قانونی اور ناقابل قبول کروایا سے توجہ نہیں ہٹائی سکتا۔دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا نہیں کیا جس سے مایوسی ہوئی، اقوام متحدہ ہمارا نقشہ تسلیم کرلے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ایک انٹرویومیںصدر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔ وہاں کی حکومت اپنی تاریخ خود مسخ کر رہی ہے۔ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ کشمیر میں خواتین پر ظلم کیا گیا، بھارت نے نازی قسم کی سیاست اور پیلٹ گن کا استعمال اسرائیل سے سیکھا، بھارت کشمیر میں مظالم بڑھا رہا ہے،مودی حکومت نے حالات خراب کیے لیکن وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوگی۔صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ 1945ء میں بنا جہاں بھارت خود کشمیر کا معاملہ لے کر گیا تھا۔اگر مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے تو بھارت عالمی میڈیا کو اجازت کیوں نہیں دیتا ان کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلے پر ہم سب اکٹھے ہیں۔ کشمیر مسئلے پر ہم سب نے اپنا اپنا رول ادا کرنا ہے،بدھ کے روز سینیٹ میں مجھے دعوت دی گئی ہے، کسی صدر کو سینیٹ کی دعوت پہلا موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی اقدام پر چین نے واضح موقف اختیار کیا جبکہ ترکی، چین اور ملائیشیا نے بھی پاکستان کو کشمیرمعاملے پر سپورٹ کیا۔صدر نے کہاکہ سوشل میڈیا تیز ترین فورم ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے کہا ہے کہ کشمیر کاز کو سوشل میڈیا پر زیادہ اجاگر کیا جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.