عالمی سیاست میں بڑی ہلچل ۔۔۔ نومبر 2020 میں افغانستان میں صرف کتنے امریکی فوجی باقی رہ جائیں گے ؟ امریکی اعلان نے بھارت کی نیندیں حرام کر دیں

واشنگٹن ۔ (ویب ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس سال نومبر تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے 4 سے 5 ہزار تک کر دی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے ایچ بی او ٹیلی ویژن نیٹ ورک سیپر یہ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کچھ ہی عرصے میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرکے 8 ہزار تک

لے جائیں گے اور اس کے بعد کچھ ہی عرصے میں اس تعداد کو 4 ہزار تک لے جائیں گے۔ہم اس بارے میں مذاکرات کر رہے۔ ہم وہاں انیس سال سے ہیں۔امریکی صدر نے اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی بلکہ یہ کہا کہ ایسا بہت جلد کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ہم مناسب وقت پر جلد ہی افغانستان سے نکلنے والے ہیں۔ فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتہ ہوا اور اس کے بعد امریکی فوجوں کا بتدریج انخلا شروع ہو گیا تھا۔اس سے پیشتر یہ تعداد 13 ہزار کے قریب تھی اور اب یہ کم ہو کر 8 ہزار 6 سو رہ گئی ہے۔ جب کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے پانچ فوجی اڈے بھی خالی کر دیئے ہیں۔ اس سمجھوتے کے تحت امریکی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا جولائی 2021 تک مکمل ہو جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت طالبان افغان حکومت اور دوسرے فریقوں سے مذاکرات کر کے ملک میں امن قائم کریں گے۔ طالبان کے درمیان امن سمجھوتہ ہوا اور اس کے بعد امریکی فوجوں کا بتدریج انخلا شروع ہو گیا تھا۔اس سے پیشتر یہ تعداد 13 ہزار کے قریب تھی اور اب یہ کم ہو کر 8 ہزار 6 سو رہ گئی ہے۔ جب کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے پانچ فوجی اڈے بھی خالی کر دیئے ہیں۔ اس سمجھوتے کے تحت امریکی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا جولائی 2021 تک مکمل ہو جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت طالبان افغان حکومت اور دوسرے فریقوں سے مذاکرات کر کے ملک میں امن قائم کریں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.