مہاتیر محمد پاکستان کو پیارے ہو گئے ۔۔۔ مسئلہ کشمیر کی خاطر ایسا اعلان کر دیا کہ بھارت کی نیندیں حرام ہو گئیں

کوالالمپور(ویب ڈیسک) ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اپنے پچھلے بیانات پر کوئی افسوس نہیں، بیان کے بعد بھارت سےبرآمدات پر اثر پڑامگرافسوس نہیں، اب مجھے کشمیر کیلئے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کشمیرمیں گزشتہ برس 5اگست کےبھارتی اقدامات غیر قانونی ہیں اور بھارت کا آرٹیکل 370اور35اے کی منسوخی بھی غیرقانونی اقدام ہے۔ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیرمیں 9لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں ، جس کی وجہ سے کشمیری سخت فوجی محاصرے میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نے کہا انسانیت کیلئے آواز اٹھانے کو ترجیح دی ہے، اپنے پچھلے بیانات پر کوئی افسوس نہیں، کشمیر پر بات کروں گا، اب کسی کے بائیکاٹ کرنے کی پرواہ نہیں، اب مجھے کشمیر کیلئے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بیان کے بعد بھارت سےبرآمدات پر اثر پڑامگرافسوس نہیں، کشمیرمیں ناانصافیوں پرایکسپورٹ کونقصان ہوا،یہ سودہ مہنگانہیں، کشمیر پرجو بھی میں نے کہا اس پر معافی نہیں مانگوں گا۔یاد رہے گذشتہ سال ملیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی جارحیت سے دنیا کو آگاہ کیا تھا اور مظلوم کشمیریوں کی آواز بنے تھے۔بعد ازاں ان کے اس بیان کے بعد بھارت نے ملیشیا پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تجارتی معاملات ختم کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔مہاتیرمحمد نے اقوام متحدہ میں تقریر میں کہا تھا کہ بھارت نے کشمیرپرحملہ کر کے قبضہ کیا ہوا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیرپرقبضہ کیا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے، بھارت کو پاکستان کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے اور قانون کی حکمرانی کو دیگر طریقے سے نظرانداز کرنے کا باعث بنے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.