شاہ محمود قریشی پنجاب کا وزیراعلیٰ یا پھر وزیراعظم پاکستان بننے کے لیے کہاں کہاں خفیہ صلاح مشورے کرتے پائے گئے ؟ ہارون الرشید کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) یکسوئی ہمیں حاصل نہیں‘ ہرگز نہیں‘ ورنہ یہ جلاوطن کشمیری حکومت کی احمقانہ تجویز کبھی پیش نہ کی جاتی۔ مظفر آباد کی منتخب حکومت کیا ایک مکمل نمائندہ حکومت نہیں‘؟کشمیری مہاجرین کے لئے جس میں ایک تہائی نشستیں مختص ہیں۔ ژولیدہ فکری ہے‘ژولیدہ فکری ! کشمیر پہ حکومتی اقدامات ناقص تونہیں

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ناکافی ضرورہیں۔ اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایک بھر پور سفارتی مہم چلانے سے ہم نے گریز کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا فرمان ہے کہ پاکستان کے پاس اس کے لئے کافی وسائل نہیں۔ سبحان اللہ‘ وسائل کا کیاسوال؟ کیا اس مقصد کے لئے اربوں‘ کھربوں روپے درکار ہیں؟کم ہمّتی کو تاویلیں بہت۔ واشنگٹن پوسٹ ‘ نیو یارک ٹائمز‘ لندن ٹائمز‘ گلف نیوز اور عرب نیوز میں مضامین شائع کرنے کے لئے کتنا روپیہ درکار ہے؟۔ بعض سرکاری ترجمان یہ کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی اب تک بروئے کار آنے والے سب وزرائے خارجہ سے زیادہ متحرک ہیں۔کیا کہنے‘ کیا کہنے! رتی برابر صداقت بھی اس دعوے میں نہیں۔ خورشید محمود قصوری کی طرح‘ وزیر خارجہ کو اپنی تمام تر توانائی‘ اپنے فرائض کے لئے مختص کرنی چاہیے۔ بالکل برعکس قریشی صاحب کئی محاذوں پر الجھتے رہتے ہیں۔ ملتان کی سیاست میں وہ سرگرم ہیں۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے خواب سے بھی دستبردار نہیں ہوئے۔ کبھی تو وزارت عظمیٰ کا سپنا بھی دیکھتے ہیں۔ باخبر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کارخیر کے لئے اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی سرگوشیاں کرتے رہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ درپیش حالات میں‘ اس منصب کے لئے وہ موزوں ہی نہیں۔ ہمیں ایک زیادہ یکسو رہنما کی ضرورت ہے۔ سب کچھ بھلا کر‘ جو فقط کشمیر کاز میں مگن رہے۔تمام تر ذہنی اور جسمانی توانیاں نچوڑ دے۔ در دلِ خویشِ طاہرہ گشت و ندید جز ترا صفحہ بہ صفحہ لابہ پردہ بہ پردہ توبہ تو یہ فارسی زبان کی اس ساحرہ قرأۃ العین طاہرہ کا شعر ہے:

Sharing is caring!

Comments are closed.