قوم کو بیوقوف بنانے کی ایک کوشش مگر کیسے ؟ پاکستان کے نئے سیاسی نقشے پر پنجاب یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا رد عمل آپ کو حیران کر دے گا

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے منگل کو پاکستان کے ‘نئے سیاسی نقشے’ کی باقاعدہ رونمائی کی ہے جس میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔پاکستان کی طرف سے یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب انڈیا کی طرف سے کشمیر کی

نیم خود مختاری ختم کرنے کا ایک سال ایک روز بعد مکمل ہو رہا ہے۔ اس موقع پر انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں سخت کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔وزیرِاعظم عمران خان نے رونمائی کے موقع ہر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘کابینہ کی طرف سے منظوری کے بعد اس نئے نقشے کو پاکستان کے سرکاری نقشے کی حیثیت حاصل ہو گئی اور یہ سکولوں اور کالجوں میں استعمال ہو گا۔’پاکستان کی طرف سے نئے سیاسی نقشے کے سامنے آنے کے بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی بیان میں کہا گیا کہ ‘اس قسم کے مضحکہ خیز دعوے کی کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی بین االاقوامی قبولیت۔’نئے نقشے میں انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھاتے ہوئے اس پر لکھا گیا ہے ‘انڈیا کے غیر قانونی قبضے میں جموں اور کشمیر’ جبکہ ساتھ ہی سرخ سیاہی میں درج کیا گیا ہے کہ ‘متنازع علاقہ، حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ہونا ہے۔’پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کو اپنا حصہ سمجھا ہے اور یہ اس جانب پہلا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے تنازع کا واحد حل کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد ہے۔’پاکستان طاقت کے استعمال سے مسائل کے حل پر یقین نہیں رکھتا، ہم سیاسی جدوجہد کریں گے۔ ہم اقوامِ متحدہ کو بار بار یاد دلاتے رہیں گے

کہ آپ نے کشمیر کے لوگوں سے ایک وعدہ کیا تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔’پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے نئے سیاسی نقشے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کے نقشے کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس نقشے سے ‘یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کونسل کی سفارشات کی روشنی ہی میں ممکن ہے اور دوسرا یہ کہ سیاچن ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔’ان کی طرف سے نئے سیاسی نقشے کی جو تصویر دکھائی گئی اس میں سر کریک اور انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے جوناگڑھ اور مناوادر کو بھی دکھایا گیا ہے۔سر کریک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے انڈیا کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ مغربی حصے کی جانب بڑھ رہا ہے، ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہماری سرحد مشرق کی طرف ہے۔پاکستان کی طرف سے نئے سیاسی نقشے کے سامنے آنے کے بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان کا طرف سے انڈیا کی ریاستوں گجرات اور اس کے یونین علاقوں کشمیر اور لداخ ہر ناقابلِ مدافعت حق ظاہر کرنا سیاسی طور پر ایک بے معنی مشق ہے۔’بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے جاری کیے جانے والا

‘نام نہاد نیا سیاسی نقشہ دیکھا ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘اس قسم کے مضحکہ خیز دعوے کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی بین االاقوامی معتبریت ہے۔’پاکستان کی طرف سے نئے سیاسی نقشے کے اجرا کے حوالے سے بی بی سی نے کچھ مبصرین سے بات کی جن کا کہنا کہ اس نوعیت کے اقدامات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو کوئی مدد حاصل نہیں ہو گی۔لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر شبیر احمد خان کا کہنا تھا پاکستان کا جو سیاسی نقشہ نیا کہہ کر پیش کیا گیا ہے اس میں کچھ زیادہ نہیں ہے۔ پاکستان پہلے بھی ‘کشمیر میں اپنے زیر انتظام کشمیر کو دکھانے کے لیے نقشے پر لائن آف کنٹرول کو نقطوں کی لائن لگا کر دکھاتا تھا۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ اس کو بھی ختم کر دیا جائے تو وہ ہٹا دی گئی۔’تاہم شبیر احمد خان کا کہنا تھا کہ اس نقشے کو جاری کرنے کے پیچھے جو مقصد ہے ‘وہ پاکستان کی طرف سے ایک انتہائی قابلِ شرم اور بچگانہ اقدام ہے۔ یہ کوئی علامتی پیغام بھی نہیں ہے۔ بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو اس طرح اکساتی نہیں ہیں۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح نقشے بنانے سے یا کسی شاہراہ کا نام سرینگر شاہراہ رکھنے سے کوئی اس کو تسلیم تھوڑی کر لے گا۔’ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ذمہ دار حکومتیں کسی دوسری بڑی طاقت کا ان طریقوں سے اکساتی نہیں ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.