شریف خاندان کی مشکلات میں اضافہ! شریف فیملی کے سی ای او سے تحقیقات میں کیا کچھ سامنے آگیا؟ رپورٹ نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

لاہور( نیوز ڈیسک) شریف خاندان کے چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) محمد عثمان کی گرفتاری کے بعد منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں شہباز شریف خاندان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔شہبازشریف خاندان کے سی ایف او محمد عثمان سے ہونیوالی تحقیقات کی رپورٹ سامنے آگئی ۔ نیب نے رپورٹ میں کہا ہے کہ

شریف فیملی کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان نے منی لانڈرنگ میں شہباز شریف فیملی کی معاونت کی ہے۔نیب نے شریف خاندان کے سی ایف او محمد عثمان سےاب تک ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرادی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف ایم یو نے شہباز شریف کے اکاؤنٹس میں مشکوک ٹرانزیکشنز پر رپورٹ نیب کودی، 23اکتوبر2018 کو منی لانڈرنگ،آمدن سے زائداثاثوں کی تحقیقات کاآغازہوا، تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ شہباز شریف فیملی نے نے آمدن سےزائد7 ارب کے اثاثے بنائے۔نیب رپورٹ کے مطابق شہباز شریف خاندان نے آمدنی کو ظاہر کرنے کیلئے جعلی ذرائع بنائے اور ملازمین سےملکرآرگنائزڈمنی لانڈرنگ کی گئی ، ملزم محمد عثمان کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز میں ملوث اور منی لانڈرنگ میں سہولت کار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم محمد عثمان نے شہباز شریف اوردیگر کی منی لانڈرنگ کے لیے سہولت فراہم کی اورمنی لانڈرنگ میں اہم کردار اداکیا، سی ایف او شہبازشریف،حمزہ شہباش،سلمان شہبازکی ہدایات پرمنی لانڈرنگ کرتےتھے۔خیال رہے کہ عید کے روز گرفتار ہونیوالے ملزم محمد عثمان جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں اور پوچھ گچھ کے دوران مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔دوسری جانب اینکر عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان کے سی ایف او محمد عثمان کی گرفتاری کے بعد شریف خاندان بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا ہے۔ اب شہبازشریف، حمزہ شہباز، سلمان شہبا زاور شہباز شریف فیملی کے دیگر افراد پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ محمد عثمان شہبازشریف فیملی کا اسحاق ڈار ہے اور اس بندے کو نیب بہت عرصے سے ڈھونڈ رہی تھی۔یہ پکڑا نہیں جارہا تھا لیکن عید والے دن رات کو پکڑا گیا۔اینکر کے مطابق نیب اس

بندے کو 8 ماہ سے تلاش کررہی تھی اور یہ بندہ قابو نہیں آرہا تھا۔ شہباز شریف کے خلاف ٹی ٹی سکینڈل کا کیس کھلا تھا، یہ کیس اس بندے محمد عثمان کے روپوش ہونے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پارہا تھا۔محمد عثمان کیسے پکڑا گیا؟ اینکر عمران خان نے بتایا کہ نیب کو عید سے ایک دن پہلے ایک مخبری ہوتی ہے کہ یہ بندہ لاہور میں داخل ہوگا کہ یہ بندہ کسی اور شہر سے لاہور آرہا تھا۔ یہ بندہ لاہور میں بھی نیب کے ہاتھوں سے نکل گیا پھر تین گاڑیاں اسکے پیچھے بھگائیں، اسے روکا اور نیب کے دفتر لے گئے۔محمد عثمان کیا اہمیت رکھتا ہے؟ اینکر نے کہا کہ اسکا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جیسے اسحاق ڈار نوازشریف کیلئے اہم ہے ویسے ہی یہ بندہ شہبازشریف کیلئے اہم ہے۔ اس سے وہ کام لئے جاتے تھے جو آپس میں اپنے رشتہ داروں کو بھی بتاتے ہوئےسوچیں۔شہبازشریف محمد عثمان کیساتھ اپنے سارے راز کھول دیتے تھے۔ یہ شہبازشریف کا رازدار اور شریف خاندان کی منی لانڈرنگ میں معاونت کرتا تھا خصوصا شہبازشریف، حمزہ شہباز، سلمان شہباز کا شریک جرم ہے۔ یہ محمد عثمان حکم کا وہ اکا ہے جو نیب کے ہاتھ لگ جائے تو بازی پلٹ سکتا ہے۔اینکر نے بتایا کہ جب مشتاق چینی پکڑا گیا تو اس نے بتایا کہ میری کمپنی اور میری کمپنی کے اکاؤنٹس کو مانگا گیا تو جو بندہ مجھ سے ڈائریکٹکلی بات کرنے آیا تھا وہ محمد عثمان تھا۔شریف خاندان نے ایک طرف تو یہ کہتا تھا کہ اگر محمد عثمان دو نمبری کرتا رہا تو اس سے ہمارا کیا تعلق اور دوسری طرف اسے چھپایا ہوا تھا۔ ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ سکینڈل میں جتنے بھی ملزم پکڑے گئے وہ اینڈ پہ کہتے کہ یہاں تک ہمیں پتہ ہے اس سے آگے عثمان کو پتہ ہے۔ شریف فیملی بھی یہی کہتی رہی کہ عثمان کو پتہ ہے۔ اب عثمان بتائے گا کہ اس نے یہ سب کچھ کس کے کہنے پر کیا۔اس بندے پر الزام یہ ہے کہ اس بندے نے 700 کروڑ کی منی لانڈرنگ کی ہے۔ شہباز شریف نے مبینہ طور پر نثار ٹریڈنگ نامی کمپنی ایک شخص راشد کرامت کے نام سے بنائی جو شریف فیڈز میں ملازمت کرتا تھا اور اسکی تنخواہ ہی 18 ہزار تھی، اس کمپنی سے شہبا زشریف اور اسکی فیملی کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپیہ آیا۔ اسی طرح ایک کمپنی خان ٹریڈرز بنائی گئی ۔ یہ شکیل نامی شخص کے والد کے نام سے بنائی جو رمضان شوگر ملز میں ملازمت کرتا تھا۔ محمد عثمان کی گرفتاری سے ایک ایسا لنک مل گیا ہے کہ آنیوالے دنوں میں مزید گرفتاریاں ہوں گی۔آخر میں اینکر عمران خان نے کہا کہ اگر سلمان شہباز کسی طرح گرفتار ہوجاتے ہیں تو یہ چیپٹر کلوز ہوجائے گا۔ شہباز شریف کی گرفتاری کا بھی امکان ہے، حمزہ شہباز جو پہلے سے گرفتار ہیں مزید پھنسیں گے اور ن لیگ پہلے سے زیادہ جارحانہ موڈ میں آجائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.