جب عورت کو رات میں

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے خبردی، ان سے ہشام نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا انہوں نے زینب بنت ام سلمہ کے واسطے سے نقل کیا؛ وہ (اپنی والدہ) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رض سے روایت کرتی ہے کہ ام سلیم (نامی ایک عورت) رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں

شرماتا (اس لئے میں پوچھتی ہو کہ ) کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل ضروری ہے! آپؐ نے فرمایا کہ (ہاں) جب عورت پانی دیکھ لے (یعنی کپڑے وغیرہ پر منی کا اثر معلوم ہو تو (یہ سن کر ) حضرت ام سلمہ رض نے (شرم کی وجہ سے) اپنا چہرہ چپھا لیا اور کہا یا رسول اللہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے! آپ نے فرمایا، ہاں تیرے ہاتھ خاک الود ہوں پھر کیو اس کا بچہ اس کی صورت کے مشابہ ہوتا ہے (یعنی یہی اس کے احتلام کا ثبوت ہے) انصار کی عورتیں ان مخصوص مسائل کے دریافت کرنے میں کسی قسم کی شرم سے کام نہیں لیتی تھیں جن کا تعلق صرف عورتوں سے ہے یہ واقعہ ہے کہ اگر وہ رسول اللہﷺ سے ان مسائل کو وضاحت کے ساتھ دریافت نہ کرتیں تو آج مسلمان عورتوں کو اپنی زندگی کے اس گوشے کے لیے رہنمائی کہاں سے ملتی اسی طرح مزکورہ حدیث میں حضرت ام سلیم نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت بیان فرمائی کہ وہ حق بات کے بیان میں نہیں شرماتا پھر وہ مسلہ دریافت کیا جو بظاہر شرم سے تعلق رکھتا ہے مگر مسلہ ہونے کی حثیت میں اپنی جگہ دریافت طلب تھا پس پوری امت پر سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا بڑا احسان ہے کہ آپؐ نے زاتی زندگی سے متعلق بھی وہ باتیں کھول کر بیان فرما دیں جنہیں عام طور پر لوگ بے جاشرم کے سہارے بیاننہیں کرتے اور دوسری طرف صحابیہ عورتوں کی بھی یہ امت بے حد ممنون ہے کہ انہوں نے آپ سے سب مسائل دریافت کر ڈالے جن کی ہر عورت کو ضرورت پیش آتی ہے

مسلمان کیلئے الله کا حکم ?”چھپی دوستی رکھنے والے نہ بنو”?
اسلام میں غیر مَحرَم مردوں اورعورتوں کا باہم مروّجہ محبتیں کرنا یا دوستیاں لگانا ایک بے ہودہ عمل ہے۔ مومنہ اور مسلمہ عورت سے کسی بھی ایسی بے ہودہ اور بے حیاء حرکت کا سرزد ہونا سراسر خلافِ واقعہ ہے۔ اور کم از کم مسلمان لڑکیاں ایسا بے ہودہ عمل نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے کلامِ مجید میں ایسے بے ہودہ لوگوں کی حیثیت بیان فرمائی ہے ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
فَانْكِحُوْھُنَّ بِـاِذْنِ اَھْلِہِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ۝۰ۚ
’’پس تم ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلو اور انہیں دستور کے مطابق ان کے مہر دو، جبکہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، بدکاری کرنے والی نہ ہوں اور نہ چوری چھپے آشنا بنانے والی ہوں۔ ‘‘ (النساء4: 25)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں کے لیے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا جواز بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ۝۰ۭ
’’اور تمہارے لئے پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں حلال ہیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ، جبکہ تم انہیں ان کے مہر دے دو، نیز انہیں نکاح کی قید میں لانے والے بنو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ چھپی آشنائی رکھنے والے۔ ‘‘ (المائدہ5:5)

مذکورہ دونوں آیاتِ مبارکہ میں اس کائنات اور اس میں موجود ہر مخلوق کے خالق و مالک اللہ أحکم الحاکمین نے غیر محرم لڑکا و لڑکی کی باہمی غیر شرعی طور پر بغیر نکاح کے کی جانے والی دوستیوں کو پاکدامنی کے منافی قرار دیا ہے۔
جب کوئی مسلمان عورت اپنے کردار میں مضبوط دیوار کی طرح ٹھوس ہوگی تو کوئی بیمار دل شخص کسی بھی طرح اسے اپنے دامِ تزویر میں پھنسا نہیں سکے گا۔ پھر ایسے مرد یا تو جگہ جگہ بکنے والی لونڈیوں کے قابل رہ جاتے ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی بے حیاء عورتوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
اور ایسی عورتیں جو محض چند ٹکوں کے بیلنس، شاپنگ اور محبت کے جھوٹے دعوؤں کے عوض غیر محرم کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرتی ہیں حتی کہ کچھ اپنی عصمت تک کا سودا کرلیتی ہیں، وہ بکاؤ لونڈیوں کی طرح ہوجاتی ہیں یا پھر اہل کتاب (یہود و نصاری) کی عورتوں کی طرح بے وقعت
اللہ رب العزت سے دعا ہے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *