’’خان صاحب کے دھرنے نےہمیں مجبور کر دیا تھا کہ ہم۔۔۔‘‘خواجہ آصف نے 2014کے دھرنے کی بڑی حقیقت کوتسلیم کرلیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہاہے کہ تحریک انصاف کے دھرنے میں حکومت ہل گئی تھی لیکن پھر بھی ہم نے مقابلہ کیا۔اے آروائی نیوز کے پروگرام ”آف دی ریکارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ تحریک انصاف کے دھرنے میں حکومت ہل گئی تھی لیکن پھر بھی مقابلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے پیش گوئی کی کہ نئے الیکشن ہوسکتے ہیں، عوام رائے پر بننے والی حکومت مسائل کاخاتمہ کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت ناکام ہے ۔ حکومتی سیٹ اپ پر روز نئی نئی باتیں ہورہی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومت نے مسلم لیگ (ن)کے رہنما رانا تنویر کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ماننے سے انکار کر دیا۔ایک انٹرویومیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف چیئرمین پی اے سی کے لیے اپنا امیدوار کھڑا کرے گی، اس بار حزب اختلاف کو یہ عہدہ نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ چیئرمین شپ کے لیے انتخاب کیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڈ نے کہا کہ حزب اختلاف نے چیئرمین پی اے سی کے لیے راناتنویر کے نام پر اتفاق کر لیا ہے تاہم خدشہ ہے کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اس سے پہلے بھی پی اے سی کا چیئرمین بننے کیلئے تیار نہیں تھے اور یہ پہلے ہی طے ہو گیا تھا کہ وہ مستقل چیئرمین نہیں رہیں گے تاہم استعفیٰ اب دیا ہے۔عطا تارڈ نے کہا کہ نواز شریف نے کہا ہے جس دن وہ تندرست ہو گئے اسی دن وہ وطن لوٹ آئیں گے۔ شیخ رشید نے کبھی سچ نہیں بولا اس لیے ان کی باتوں پر کان نہ دھرے جائیں۔عطا تارڈ کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ چیئرمین پی اے سی پر پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی جبکہ حزب اختلاف کسی بھی معاملے پر تقسیم نہیں ہے۔ ہم نے ابتدا میں ہی دھرنے کی مخالفت کی تھی اور ہم دھرنے میں شریک نہیں ہوئے لیکن احتجاج میں موجود تھے۔جمعیت علمائے اسلام (جے یوآئی) ف کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں مل بیٹھ کر پی اے سی کی چیئرمین شپ کا فیصلہ کریں گی یہ حزب اختلاف کا حق ہے اور حکومت کو چیئرمین شپ دینی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے اب عمران خان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا اور نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد وہ دو دن کی چھٹی پر گھر میں بیٹھ گئے تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.