پاکستان میں لڑکی کی شادی کس سے کر دی گئی جان کر کانوں کو ہاتھ لگائیں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) یہ دنیا ایک عبرت کی جاں ہے ۔ جہاں خونی رشتے خون کے پیاسے بن جاتےہیں جس کی وجہ صرف دولت کی ہوس اور جعلی عزت ہوتی ہے ۔ انہی قبیح رواجوں میں سے ایک رواج قرآن سے شادی ہے ۔ قرآن جیسی مقدس کتاب کو بھی اپنی انا کے خآطر بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔

اس طرح وٹہ سٹہ اور کاروکاری جیسی رسمیں آج بھی پاکستان میں پائی جاتی ہے ۔ زیبدہ علی نامی ایک سندھی لڑکی نے بھی اپنے گاﺅں میں ایسی ہی ایک شادی دیکھی جس کی روداد اس نے اقوام متحدہ کے انفارمیشن یونٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بیان کی ہے۔ زبیدہ علی نے بتایا کہ ”7سال قبل ہمارے گاﺅں میں ایک لڑکی کی شادی ہوئی۔ یہ لڑکی میری کزن فاریبہ تھی۔ فاریبہ کو دلہن تو بنایا گیا لیکن اس کے لیے کوئی دولہا موجود نہیں تھا۔ اس کی شادی قرآن مجید سے کروائی گئی تھی۔ فاریبہ بہت خوبصورت تھی اور اس وقت اس کی عمر 25سال تھی۔ اسے روایتی طور پر سرخ عروسی جوڑا پہنایا گیا، مہندی لگائی گئی اور زیورات پہنائے گئے۔ اس سب کے بعد اسے ایک سیاہ چادر اوڑھا دی گئی۔ شادی کی تقریب میں موسیقی بج رہی تھی، سینکڑوں مہمان تھے لیکن دولہا نہیں تھا۔“انفارمیشن یونٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”پاکستان میں لڑکیوں کی قرآن مجید سے شادی کرنے کا سب سے بڑا مقصد جائیداد کی خاندان سے باہر منتقلی کو روکنا ہوتا ہے۔ جب کسی لڑکی کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا اور اس کی شادی خاندان سے باہر ہو جاتی ہے تو اس کے نام آنے والی جائیداد بھی دوسرے خاندان (دولہا کے خاندان) کو منتقل ہو جاتی ہے

Sharing is caring!

Comments are closed.