شکر الحمد للہ : عمران خان بالآخر قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے نقش قدم پر چل نکلے ۔۔۔۔۔ حامد میر نے پاکستانیوں کو شاندار خبر دے کر زبردست پیشگوئی بھی کردی

لاہور (نیوز ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مجھے حیرت ہوئی کہ فلسطین کے متعلق علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے دو ٹوک موقف کو ہماری نصابی کتب میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطین کے متعلق اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے بیانات

اور خطوط میں برطانیہ و امریکہ کے بارے میں بہت سخت الفاظ شامل ہیں ۔ بعض جگہ قائداعظمؒ نے مسئلہ فلسطین کو مسئلہ کشمیر سے بھی جوڑا ہے۔ مسئلہ فلسطین پر 1933ء سے 1947ء کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ نے 18قراردادیں منظور کیں جن میں برطانوی حکومت پر شدید تنقید کی گئی ۔ یہ قراردادیں اُن نام نہاد تاریخ دانوں کا منہ بند کر دینے کے لئے بہت ہیں جو گاہے گاہے تحریک پاکستان اور قائد اعظمؒ کی جدوجہد کے پیچھے برطانوی حکومت کا ہاتھ تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن سلام ہے فیض احمد فیض کی فکری دیانت کو جنہوں نے انجمن ترقی پسند مصنّفین کے حکم پر اقبالؒ کی مذمت سے انکار کر دیا تھا ۔ اُن کے بارے میں خودساختہ حقائق کے نام پر کہا گیا کہ انہوں نے 23مارچ 1940ء کی قرارداد انگریزوں کے کہنے پر منظور کرائی ۔ یہ الزام لگانے والے بھول گئے کہ 23مارچ 1940ء کو صرف ایک علیحدہ وطن کی قرارداد منظور نہیں ہوئی بلکہ ایک اور قرارداد فلسطینیوں کے حق میں بھی تھی۔ 30جولائی 1946ء کو قائداعظمؒ نے اپنے بیان میں یہودیوں کے بجائے صہیونیوں پر تنقید کی اور کہا کہ یہ امریکہ کی ناک کو پکڑ کر جدھر چاہتے ہیں لے

جاتے ہیں لہٰذا امریکہ اور برطانیہ فلسطین سے نکل جائیں اور عربوں اور یہودیوں کو لڑبھڑ کر مسئلہ حل کرنے دیں۔31جولائی 1946ء کے ڈان میں مذکورہ بیان تفصیل کے ساتھ موجود ہے ۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد دستور ساز اسمبلی نے فلسطینیوں کے حق میں قرارداد منظور کی اور 13ستمبر 1947ء کو قائداعظمؒ نے مفتی امین الحسینی کو خط میں یقین دلایا کہ ہم آپ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ قائداعظمؒ کے خیالات کو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا اور اب وزیراعظم عمران خان نے بھی کھل کر کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی وہی رہے گی جو قائداعظمؒ کی تھی ۔ عمران خان کیلئے یہ الفاظ کہنا آسان نہیں تھا وہ بھی اپنے دفتر خارجہ کی طرح ایک گول مول بیان دے سکتے تھے ۔ دفتر خارجہ اور عمران خان کے موقف میں واضح فرق موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان پر دباو ہے ۔ پاکستان کو چاہئے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دبائو ڈالنے والوں کو بتائے کہ ہم نے بڑی مشکل سے انتہا پسندی پر قابو پایا ہے اگر پاکستان پر کوئی ایسا فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ردعمل میں انتہاپسندی پھیلے گی اس لئے ہمیں علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے راستے پر رہنے دو

Sharing is caring!

Comments are closed.