“تم جسے یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہو، اس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے اِنکار کردیا، جیسے یہ امت کا مقدمہ لڑرہا ہے، کوئی دوسرا لیڈر نہیں لڑسکتا۔۔” مولانا صاحب کا عمران خان کو زبردست خراج تحسین ، فضل الرحمان پر برس پڑے‎‎

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مولانا نے کہا ہے کہ میرا حوصلہ بڑا بلند ہوا وزیراعظم عمران خان نے فلسطین کا مقدمہ ایسے لڑا جیسے ایک مجاہد لڑتا ہے ۔ دوسرا فلسطین کا فیصلہ ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ مولانا نے فضل الرحمان کےدھرنے والوں سے کہا کہ آپ تو آج عمران خان کا ماتھا

چومو ، جسے تم نے پورا سال یہودیوں کا ایجنٹ کہا ، اس نے ایسی تقریریں کی ہیں جس نے مسلمانوں کو رولا دیا ہے ۔ سارے مسلمانوں کو مل کر عمران خان کا استقبال کرنا چاہیے ۔ مولانا صاحب نے کہا ہے کہ میں دیکھاکہ تاریخ میں جیسے عمران خان نے امت مسلمہ کا مقدمہ لڑا کوئی دوسرا لیڈر نہیں لڑ سکتا ۔ یہ امت کیلئے عطیہ ہے ،ہم سعودی عرب ، ایران ، ترکی اور شام کی طرف دیکھتے رہے ہم نے دنیا کی طرف دیکھا کہ کوئی امت مسلمہ کیلئے آواز اٹھائے ، وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو گرویدہ اس لیے کر لیا، مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ عمران خان کیلئے دعا کریں کیونکہ مجھےتاریخ کا پتہ ہے جب جنرل ضیاء نے ان کیخلاف آواز بلند کی تھی، انہوں نے جنرل ضیاء کیساتھ کیا حشر کیا ، وہ عمران خان پر بھی حملہ کریں گے کیونکہ ان کے گھر میں بیٹھ کر ان کو کہتا ہے کہ ہندوئوں نے خودکش حملے سب سے پہلے شروع کیے تم نے ہندوئوں کو دہشت گرد کیوں نہیں کہا ، مسلمانوں کو دہشت گرد کیوں کہتے ہو ۔ مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ تمہارے سابق لیڈر ایسے بیٹھتے تھے کہ جیب

سے پرچیاں گم ہو جاتیں تھیں ، کچھ الٹا بول جاتے تھے ، یہ آدمی بول تو رہا ہے ، تمہارا مقدمہ تو لڑ رہا ہے ، محمد ؐ کی شریعیت کا مقدمہ ایسے کسی مسلمان لیڈر یا کسی مولوی نے نہیں لڑا جس طریقے سے عمران خان نے دلائل دیئے کہ ہم ایک اسلام کو مانتے ہیں۔ عمران خان کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ قادیانوں کا ایجنٹ ہے ، بے شرمو تم نے اسلام کو بدنام کیا ہے، عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام ایک ہے ہم اس کو مانتے ہیں ،اور وہ دین محمدؐ کا دین ہے ہم اس کے سوا کسی کو نہیں مانتے ۔ مسلمان کا عمران خان سے بڑا ایجنٹ کون ہو سکتا ہے ۔ اس لیے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس لیڈر کیلئے دعا کریں کیونکہ اس سے بہتر امت مسلمہ کا مقدمہ کوئی اور نہیں لڑ سکتا ۔ دھرنے والوں سے مولانا کا کہنا تھا کہ دھرنا دے کر چوروں کی حمایت مت کرو ، چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے ، جو دھرنے میں جائے ان کے بھی ہاتھ کاٹے جائیں کیونکہ یہ بھی چوروں کو بچانے کیلئے جاتے ہیں ، تمہارا قائد لیڈر ایسا ہے جس نے دشمنوں کے گھر جا کر کہا کہ دہشت گرد تو ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.