وزیراعظم عمران خان نے زبردست فریضہ پاک فوج کے کس ریٹائرڈ جرنیل کے حوالے کر دیا ؟ نام آپ کا دل خوش کردے گا

لاہور (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان میں ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ اسلام کی کھل کر بات کرتے ہیں اور دوسرے کئی سیاسی رہنماؤں کے برعکس کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ چاہے دنیا کے کسی گوشہ میں ہوں، وہ درست طور پر اسلام کو ایک فخر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر بہت سے لوگ اُن پر تنقید کرتے ہیں اور خان صاحب کے ماضی کا حوالہ دیتے ہیں، جو میری نظر میں درست نہیں۔دِلوں کے حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس لئے یہ مناسب نہیں کہ کوئی اسلام کی بات کرے تو ہم اُسے یہ کہہ کر رد کر دیں کہ اس کا ماضی ٹھیک نہیں تھا۔ ہاں بحیثیت وزیراعظم خان صاحب پر اِس بارے میں ضرور تنقید ہو سکتی ہے کہ اسلام کا نام لیتے ہوئے وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لئے کوئی کام کیوں نہیں کر رہے بلکہ اُلٹا نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے لئے سودی قرضوں کا اعلان کیا، جو بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔مجھے بہرحال اس بات کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ خان صاحب پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے حیائی سے بہت پریشان ہیں اور اس بارے میں وہ اب کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طریقہ سے اس خرابی کو نہ صرف مزید پھیلنے سے روکا جائے بلکہ اس پر قابو بھی پایا جائے۔عمران خان کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ میڈیا اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی سے ہماری دینی و معاشرتی اقدار تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے، شرم و حیا ختم ہو رہی ہے۔اس کو روکنے کے لئے ایک طرف وزیراعظم نے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں ایسے فلمیں اور ڈرامہ بنائے جائیں جن میں اسلامی تاریخ، مسلمانوں کے ہیروز کو اجاگر کیا جائے، تعمیری انٹرٹینمنٹ مہیا کی جائے، دوسری طرف پی ٹی اے کو بھی وزیراعظم نے اپنی اس پریشانی سے آگاہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائے جانے والے غیر اخلاقی مواد سے قوم کے نوجوانوں کے کردار کو تباہ کیا جا رہا ہے۔پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستان کے آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اس گندگی کو روکا جائے۔ ابھی تک مجھے اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ آیا وزیراعظم نے پیمرا کو بھی ایسی ہدایات جارہی کیں ہیں یا نہیں کیوںکہ غیر اخلاقی اور بےہودہ ڈراموں اور اشتہارات کو روکنے کے لئے پیمرا کا بہت کلیدی کردار ہے، جو وہ ابھی تک ادا کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ پیمرا جہاں چاہتا ہے وہاں تو فوری ٹی وی چینل تک کو بند کر دیتا ہے، اُس کا لائسنس تک کینسل کر دیتا ہے لیکن یہ چیز پھیلانے والوں میں سے کسی ایک چینل کو بھی بند کرنے سے قاصر ہے، گھٹیا ڈرامے بھی چل رہے ہیں اور ایسے اشتہارات بھی جن میں خواتین کو کم لباس پہنا کر مختلف اشیاء کی مارکٹنگ کی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.