پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں تنہا کرنے کا امریکی منصوبہ بے نقاب ۔۔۔۔ ایک ایک کرکے اسلامی ممالک کو اپنے پیج پر اکٹھا کرنے کے بعد کیا کیا جانیوالا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (نیوز ڈیسک) متحدہ عرب امارات ( یو اے ای ) اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے جس معاہدے کااعلان امریکی صدر ٹرمپ نے کیا ہے ۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کو زیادہ واضح پوزیشن کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے کہہ رہا ہے ۔ اگرچہ

یو اے ایاور دیگر عرب ممالک کولڈ وار سے پہلے عہد سے ہی امریکی اتحادی ہیں لیکن اسرائیل کے ساتھ انہیں تعلقات بہتر بنانے کے لئے ان پر اتنا دباؤ نہیں تھا ، جس طرح آج ہے۔نامور کالم نگار نفیس صدیقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے کہ امریکہ نئی کولڈ وار کی ’’ ڈاکٹرائن ‘‘ پر جارحانہ اور عجلت سے عمل درآمد کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان کہاں کھڑا ہے اور پاکستان کو امریکہ کہاں اور کس طرح دیکھنا چاہتا ہے ؟ یہ اہم سوالات ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان نئی صورت حال میں اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کر سکے گا ؟ کسی ملک کی خارجہ پالیسی اس ملک کی داخلی پالیسی ہوتی ہے ۔ اگر داخلی سطح پر ملک میں جمہوری اور سیاسی فیصلے عوام خود کر سکتے ہوں اور ان میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ ہو تو ملک داخلی طور پر بھی مضبوط ہوتا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی بھی خود مختار ہوتی ہے ۔ پاکستان کی موجودہ صورت حال میں سیاسی اور عسکری قیادت کو اب مل کر فیصلے کرنا ہوں گے ۔ زیادہ تر مسلم ممالک خاص طور پر عرب ممالک کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں اور نہ ہی انہوں نے پہلے کبھی دیا ۔ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں تنہا کرنے کا جو عمل امریکی کیمپ میں شروع ہوا ہے ، وہ امریکی کیمپ کے دیگر ممالک کے لئے شاید کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو لیکن پاکستان کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ چین ، روس

، ایران ، قطر کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے ایسے دیگر دوست تلاش کرنے ہوں گے ، جو کم از کم پاکستان کے مفادات کو امریکی کیمپ کی طرح نظر انداز نہ کریں ۔ کولڈ وار کا دوسرا عہد شروع ہو چکا ہے ، جو بدامنی اور عدم استحکام کا پہلےسے زیادہ بدترین عہد ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو سنبھلنے کے لئے بہت اہم فیصلے کرنا ہوں گے ۔ پاکستان کو کیا کرنا چاہئے ؟ آج پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے تحت کرے۔ آج سے قبل پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کبھی اپنے قومی مفادات کے تحت نہیں بنائی بلکہ مختلف مصلحتوں اور گروہی مفادات کے تحت فیصلے کئے۔ اب ہر فیصلہ ،پاکستان کے قومی مفادات میں اپنے پڑوسی ممالک چین، روس، افغانستان، ایران، سینٹرل ایشیائی ممالک، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور سی پیک کے منصوبہ کو دیکھتے ہوئے ہونا چاہئے۔ اس پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان باہمی اعتماد کے ساتھ بامقصد ڈائیلاگ شروع ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے طویل بحث بھی ہونی چاہئے اور پارلیمنٹ سے باہر بھی مشاورت جاری رہنی چاہئے۔ پاکستان بہت نازک مرحلے پر ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.