باجوہ صاحب !!! میں کسی عمرا ن خان کو نہیں جانتا ،مجھے بس اتنا پتہ ہے ۔۔۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی اصل وجہ سامنے آ گئی

لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت گہرے اور ہم جہت ہیں۔سعودی عرب کو مسلم دنیا میں ایک خاص امتیاز حاصل ہے کہ وہاں مکہ اور مدینہ ہے اور سعودی حکمران ان مقدس مقامات کے وارث ہیں۔ اس بات کو کوئی مسلمان نظرانداز نہیں کر سکتا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی ایک

تاریخ ہے۔ شاید اتنے قریبی تعلقات ہمارے کسی اور ملک کے ساتھ نہیں رہے۔ پاکستان پر جب بھی بُرا وقت آیا اور بدقسمتی سے وہ کئی بار آیا سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مالی مدد کی۔اس کے علاوہ سفارتی سطح پر بھی سعودی عرب ہمارے ساتھ ہی رہا ہے۔ کوئی ملک پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے، ایٹمی طاقت ہے اور ہمارے پاس ایک مضبوط فوج ہے لیکن ان سب حقیقتوں کے باوجود آجکل دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں خاصا تناؤ پیدا ہو چکا ہے اس صورتحال سے پاکستان کے عوام کچھ پریشان ہیں۔روزنامہ پاکستان میں اے خالق سرگانہ نے”پاکستان اور سعودی عرب” کے عنوان سے مزید لکھا کہ “پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی خرابی اچانک نہیں ہوئی یہ عمل کچھ عرصے سے جاری تھا اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو سعودی عرب اور پاکستان میں قیادت کی تبدیلی ہے۔ سعودی عرب کے سابق حکمران شاہ فیصل، شاہ خالد اور شاہ عبداللہ بہت تجربہ کار لوگ تھے اور پاکستان کے بارے میں بہت مثبت خیالات کے حامی تھے۔ یہ شاہ فیصل ہی تھے جن کی وجہ سے پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوا۔ اُس کے بعد کتنے عرب سربراہوں نے پاکستان کا دورہ کیا ہے؟ اب سعودی قیادت میں ایک بنیادی تبدیلی آئی ہے اب نوجوان سعودی قیادت کے پاس عالمی امور کا وہ تجربہ نہیں اتفاق سے ہمارے ہاں بھی کچھ تجربے کا کچھ فقدان ہے لیکن صرف قیادت کی تبدیلی ہی تعلقات کی خرابی کی

وجہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا بھی اس صورتحال پر گہرا اثر ہے۔دو ملکوں کے درمیان تعلقات میں اُتار چڑھاؤ کوئی انوکھی بات نہیں لیکن ہم پاکستانی بہت جذباتی قوم ہیں اور ہم ذرا سی تبدیلی سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوستی پر کئی فیکٹر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ہوتے ہیں۔ یمن کے معاملے پر ہم نے اپنے قومی مفاد کو ترجیح دی اور سعودی عرب کی خواہش پر فوج نہیں بھیجی پھر ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی سعودی تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سیاست میں امریکہ کا کردار بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ بھارت ایک بڑا ملک ہے اُس کے ساتھ عرب ممالک کے کافی مفادات وابستہ ہیں۔ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی حجم 33 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ سعودی تجارت ساڑھے تین ارب ڈالر ہے بھارت میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بڑی بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ سعودی عرب سے قرض لیتے ہیں اور پھر 22 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں ملازم ہیں 15 لاکھ کے قریب عرب امارات میں ملازم ہیں۔ یہ پاکستانی ہر سال ہمیں تقریباً 9 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اگرچہ منجھے ہوئے سیاستدان ہیں انہوں نے دوسری دفعہ وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالا ہے لیکن شاید انہوں نے کچھ جذباتی بیان دیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے کشمیر کا مسئلہ

حل ہو جانا تھا ایسا بالکل نہیں۔ ہم نے سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلا کر دیکھ لیا ہے صورتحال میں کوئی فرق نہیں پڑا دوسرا یہ کہ اگر ایسا ضروری تھا تو سفارتی ذرائع سے بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔پبلک میں دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنا ضروری نہیں تھا اب اس صورتحال کا ایک اور پہلو بھی بڑا افسوسناک ہے وفاقی وزیر شیریں مزاری نے باقاعدہ طور پر وزارت خارجہ کو چارج شیٹ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ بری طرح فیل ہوئی ہے بلکہ انہوں نے کشمیر کا کیس بگاڑا ہے پھر انہوں نے طنز کیا ہے کہ فارن آفس والے صرف کلف والی شلوار اور تھری پیس سوٹ تک محدود ہیں۔قریشی صاحب پر الزام لگا یا گیا ہے حالانکہ تھری پیس سوٹ کے معاملے میں تو خورشید محمود قصوری مشہور تھے۔انہوں نے نام تو نہیں لیا لیکن کلف والی شلوار سے پتہ چلتا ہے کہ اشارہ شاہ محمود قریشی کی طرف تھا۔ پھر ایک اور وفاقی وزیر گنڈا پور نے تو یہاں تک کہا ہے کہ دفتر خارجہ میں بھارت کے ایجنٹس کا قبضہ ہے۔اب یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کابینہ ایک پیج پر نہیں اور وفاقی وزراء اپنی حکومت کی پالیسیوں سے علی الاعلان اختلاف کرتے ہیں۔ اس سے حکومت کے بارے میں بڑا بُرا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ حکومت تو ٹیم ورک کا نام ہے اور اس معاملے میں تو وفاقی وزراء کے وزارت خارجہ کے بارے میں بیانات بہت سنجیدہ معاملہ ہے وزیراعظم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔توقع کرنی چاہئے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تلخی عارضی ہے اور جلد تعلقات بحال ہو جائیں گے کیونکہ دونوں ملکوں کا مفاد اسی میں ہے۔ پاکستان میں سعودی سفیر نے صورتحال کو سنبھالنے کیلئے پہلے ہی کام شروع کر دیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اُمید ہے اُن کے دورے سے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی لیکن سوال یہ ہے کہ وزیر خارجہ نے جو دھمکی دی ہے اور اس پر سعودی عرب نے جو ردعمل دیا ہے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے کیاپاکستان کامیابی سے نمٹ سکتا ہے۔کیا ہم دوستوں کی مالی امداد سے بے نیاز ہو چکے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کیا ہمیں سعودی عرب اور عرب امارات میں لاکھوں پاکستانیوں کے مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں اور سب سے بڑھ کر کہ کیا ہم کسی نئے عالمی بلاک کا باقاعدہ حصہ بننے جا رہے ہیں اور اگر ایسا ہے تو کیا لانگ ٹرم میں یہ پاکستان کے مفاد میں ہو گا”۔

Sharing is caring!

Comments are closed.