بڑی بڑی بھڑکیں مارنا مہنگا پڑ گیا! پیشی پر آئی مریم نواز کو ایک اور جھٹکا، (ن)لیگ کے لیے نئی مشکل کھڑی ہوگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو( نیب ) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے نیب کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو( نیب ) سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور لیگی کارکنوں کیخلاف

مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کرلیا، مقدمہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پردرج کیاجائے گا۔دوسری جانب نیب دفترکے باہر ہنگامہ آرائی کے بعد نیب کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے ، جس میں مریم نواز کی دوبارہ طلبی پرغور کیا جائے گا ،ذرائع نیب. کا کہنا ہے مریم نواز کو آئندہ ہفتے دوبارہ طلب کا نوٹس جاری ہوگا۔یاد رہے مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی، نیب دفتر کے باہر لیگی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ لیگی کارکنوں نے نیب دفتر کے باہر رکاوٹیں ہٹادیں تھیں۔پولیس کی جانب سے لیگی کارکنوں کومنتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی گیہ اور نیب آفس کے باہر واٹر کینن بھی طلب کرلی گئی ، لیگی کارکنان گاڑی ایل ای 3378میں پتھر سےبھرے شاپرلیکرآئے تھے ، لیگی کارکنوں نے گاڑی کےاندر سے پتھر نکال کر پولیس پر برسائے۔لیگی کارکنوں کے پتھراؤ کے باعث نیب دفتر پرکھڑیوں کے شیشےٹوٹ گئے جبکہ نیب دفتر کے باہر بیریئر بھی توڑنےکی کوشش کی گئی۔بعد ازاں نیب نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پیشی منسوخ کر دی، تاہم مریم نواز نے مطالبہ کیا ہے کہ پیشی آج ہی کی جائے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز دوبارہ نیب آفس پہنچ گئی، مریم نواز نیب دفترکے باہر اپنی گاڑی میں بیٹھی ہوئی ہیں، نیب حکام سے پوچھا جا رہا ہے کہ آج انکوائری کریں گے یا دوبارہ بلائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز کو نیب حکام نے پولیس اور کارکنان کے درمیان ہنگامہ آرائی کے باعث واپس جانے کی

ہدایت کی تھی۔نیب حکام نے کہا تھا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں مریم نواز کو نہیں سن سکتے، مریم نواز کی آج کی پیشی منسوخ کردی ہے۔ ان کو دوبارہ طلب کیا جائے گا۔ لیکن مریم نواز تھوڑی دیر بعد دوبارہ نیب آفس کے باہر پہنچ گئی اور نیب حکام سے تفصیلات طلب کیں کہ آج انکوائری کریں گے یا دوبارہ بلائیں گے۔مریم نواز نے کہا کہ مجھے نقصان پہنچانے کیلئے گھر سے بلایا گیا، مجھے آج بلایا گیا ہے، تو جواب بھی سنیں، جھوٹے الزامات کا جواب دینے آئی ہوں۔جب بلاتے ہو تو پھر سننے کا بھی حوصلہ رکھو۔ دوسری جانب نیب حکام نے چیئرمین نیب سے مشاورت کی ، چیئرمین نیب نے کہا کہ مریم نواز کوایک ہفتے بعد کا نوٹس دیا جائے جس میں مریم نواز کی پیشی سے متعلق ایس اوپیز بنائے جائیں گے۔ واضح رہے اس سے قبل مریم نواز کی پیشی کے موقع پر نیب آفس کے باہر ن لیگی کارکنان کے مشتعل ہونے اور پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم کے باعث صورتحال کافی کشیدہ ہوگئی ہے۔کارکنان نے پولیس کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے پر پتھراؤ کیا۔ مریم نواز کی گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ جس پر نیب حکام نے مریم نواز کی آج کی پیشی منسوخ کردی ہے۔ اور مریم نواز کو واپس جانے کی ہدایت کردی ہے۔ نیب حکام نے کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں مریم نواز سے کیس کی تحقیقات نہیں کی جاسکتیں، مریم نواز کی آج کی پیشی منسوخ کردی ہے، ان کو دوبارہ طلب کیا جائے گاجس پر مریم نواز نیب آفس سے واپس جاتی امراء روانہ ہوگئی ہیں۔

دوسری جانب مریم نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان کو منتشر کیا جا رہا ہے۔ اگر نوازشریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے اتنا ڈرتے ہو تو پھر بلاتے کیوں ہو؟ اگر بلاتے ہو، تو پھر حوصلہ رکھو، جگر رکھو۔ پولیس نے پتھراؤ کرکے میری گاڑی کا شیشہ توڑ دیا ہے۔واضح رہے مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز کارکنوں کے قافلے کے ساتھ جاتی امراء سے نیب آفس روانہ ہوئی تھیں،نیب نے مریم نواز کو جاتی امراء اراضی کی خریدوفروخت کی تمام تفصیلات کے ساتھ آج طلب کررکھا تھا۔ نیب حکام نے مریم نواز کی طلبی کا نوٹس اور سوالنامہ جاتی امراء ارسال کیا گیا تھا۔ سوالنامے میں پوچھا گیا ہے کہ جاتی امرا 1440 کینال اراضی کی تفصیلات سے نیب کو بتایا جائے۔زمین جب خریدی گئی تو ذرائع آمدنی کیا تھے؟ زمین کی خریداری کا طریقہ کیا تھا؟ اراضی کا ٹیکس ادا کیا گیا؟ زمین زرعی یا کمرشل استعمال میں رہی؟ ذرائع کے مطابق مریم نواز پر رائے ونڈ میں خلاف قانون اراضی انتہائی سستے داموں خریدنے کا الزام ہے، شریف خاندان کی جانب سے 2013 میں 3568 کنال اراضی خلاف قانون خریدی گئی اور سب سے زیادہ زمین نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ شمیم بی بی کے نام منتقل ہوئی جو 1936 کنال تھی۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے نام 12 ،12 ایکڑ زمین منتقل ہوئی اور زمین منتقلی میں ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا جبکہ 2015 میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے توسط لاہور کا ماسٹر پلان تبدیل کروایا گیا جس کے تحت شریف فیملی کی زمین کے ارد گرد تمام رقبے کو گرین لینڈ قرار دے دیا گیا جو شریف فیملی کی اراضی کے ارد گرد تعمیرات کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.