وزیر اعظم عمران خان اور انکی حکومت کو بڑی کامیابی مل گئی، پاکستانی قو م کے لیے بہت بڑی خوشخبری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر اینکر و صحافی کامران خان نے نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں پاکستانیوں سے اپیل کہ سب لوگ سجدہ شکر بجا لائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ شکر ادا کرنے والے کو زیادہ دیا جائے گا۔کامران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ساری

دنیا نے کل یہ خبر سنی کہ پاکستان نے کورونا وائرس پر تقریباً قابو پا لیا ہے اسی تناظر میں حکومت پاکستان نے کل اعلان کیا ہے کہ تمام کاروباری سرگرمیاں دوبارہ سے بحال کی جا رہی ہیں۔حکومت کی جانب سے کاروبار پر جو پابندیاں کورونا کے باعث لگائی گئی تھیں وہ تمام کی تمام پابندیاں کل اٹھا لی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل مشترکہ قومی مفاد کی خاطر مفاہمت کی بہت عمدہ مثال پاکستانی پالیمان میں دیکھنے کو ملی جہاں مشترکہ اجلاس میں ملکی مفادات میں بہت عرصے سے طوالت کے شکار منصوبوں کی منظوری اور قانون سازی کی گئی ہے۔کامران خان نے بتایا کہ کاروباری سرگرمیوں کی بحالی سے سٹاک ایکسچیج پھر سے 40 ہزار کی نفسیاتی سطح عبور کر گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس طرح کورونا کے دوران ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ ہو گیا ہے۔کامران خان نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستانی زر مبادلہ کے ذخائر ڈھائی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب 56 کروڑ ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔کامران خان نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا کے حوالے سے بہت ہی اچھی خبر یہ ہے کہ یہاں کورونا کے91 فیصد مریض صحتیاب ہو چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز 20 ہزار461 نئے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 782 نئے کورونا کے کیس سامنے آئے ہیں۔کامران خان کے مطابق کورونا وائرس کا انفیکشن ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر صرف 2 فیصد پر آ گیا ہے۔ اب تک سامنے آنے والے 2 لاکھ 82 ہزار کیسز میں سے صرف 18 ہزار 4 سو کچھ ایکٹو کیس باقی رہ گئے ہیں جن میں سے 1365 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔وفاقی وزیر

برائے ترقی و اصلاحات اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں ملک میں موجودہ کرونا وائرس کی صورتحال پر غور کیا گیا، اسد عمر نے متعلقہ اداروں سے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ لی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا پر تقریباً قابو پا لیا گیا ہے اور کرونا وائرس کی ملک میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو پندرہ ستمبر کو کھولنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ آٹھ اگست بروز ہفتے سے حکومت نے سیاحتی مقامات اور وہاں پر موجود تمام ہوٹلز کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ 10 اگست پیر سے ملک بھر میں پبلک پارکس، تفریحی مقاماتِ، ایکسپو ہالز، بیوٹی پارلرز، مزارات، مذہبی مقامات، سینما، تھیٹرز، جم، کلب، ہوٹل، کیفے اور ریسٹورینٹس کو بھی کرونا سے بچاؤ کی ایس او پیز کے تحت کھول دیا جائے گا، ہوٹلز اور ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانا کھانے کی بھی اجازت ہوگی۔وفاقی وزیر نے نقل و حمل اور ٹرانسپورٹ پر سے پابندی کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم روڈ ٹرانسپورٹ، ریلوے لائن اور ایئر لائنز کو بھی معمول کے مطابق بحال کر رہے ہیں، اس کے علاوہ لوگوں کو بسوں اور میٹرو بس میں کھڑے ہوکر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ ڈبل سواری پر لگی پابندی بھی ہٹائی جا رہی ہے۔اسد عمر نے بازاروں اور مارکیٹوں کو دی گئی ہفتے اور اتوار کی چھٹی ختم کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں ملک بھر کے بازاروں اور مارکیٹوں کے اوقات کار پرانے بحال کیے جا رہے ہیں، جس میں بازاروں اور مارکیٹوں کو کھولنے کے لیے اوقات کار کی پابندی نہیں ہوگی۔کامران خان نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل نے قومی مفاد کے ایک درجن قومی مسائل نمٹائے۔ ایف اے ٹی ایف کی ایک اور شرط پر عملدرآمد ہو گیا جس کے تحت پاکستان نے میوچل لیگل اسسٹنس کا بل پاس کیا جس کے تحت منی لانڈرنگ اور اس سے متعلقہ دیگر مسائل پر معلومات دی اور حاصل کی جا سکیں گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.