ایران کا باقاعدہ چین اور پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ، گوادر اور چاہ بہار کو ملانے کی تیاریاں

اسلام آبا د (ویب ڈیسک ) ایران بھی سی پیک میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران کے سفارتکاروں اور خارجہ پالیسی ماہرین نے کہا ہے کہ سی پیک میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔چاہ بہار اور گوادر کو جوڑنے سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین علاقائی تعاون کی راہ ہموار ہو گی۔ا

ن خیالات کا اظہار انہوں نے ایران کے سفارتخانے کے تعاون سے لاہور میں گولڈن رنگ اکنامک فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقدہ ’ویبینار‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،ایران کے نائب وزیر خارجہ کے مشیر اور پاکستان میں سابق سفیر ماشاءاللہ شکیری اور انسٹیٹیوٹ برائے پولیٹکل اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیر کے سینئر ماہر مدود محمد زمانی نے ویڈیو لنک کے ذریعے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین دو طرفہ تعاون کے بارے میں ایک وسیع نظریہ پیش کیا۔ویبینار سے حسنین رضا مرزا،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سکندر افضل عارف کمال،سابق پاکستانی سفیر ثناءاللہ دو دیگر نے بھی خطاب کیا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تکمیل سے سنکیانگ میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو‘‘ نے سنکیانگ میں روشن مستقبل کی امید پیدا کر دی ہے کیونکہ وہ چین کو افغانستان، ہندوستان، قزاخستان، کرغزستان، منگولیا، پاکستان، روس اور تاجکستان سمیت 8 ممالک سے جوڑتا ہے۔ان خیالات کا اظہار پاک چائنہ سینٹر فار فرینڈ شپ اسلام آبادکے تعاون سے چین کی حکومت کی مؤثر پالیسی کی وجہ سے سنکیانگ میں معاشی ترقی کو اجاگر کرنے کے لئے منعقد ہونے والے ویبینار میں شریک شرکاء نے کیا۔ اس ویبینار میں امریکہ، فرانس، نیوزی لینڈ اور چین سے بھی ماہرین نے شرکت کی۔ پاکستان کے سابق سفیر و کالم نگار جاوید حفیظ نے سنکیانگ میں معاشی نمو کو فروغ دینے کے لئے چینی پالیسی کی کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ، صحراؤں اور پہاڑوں پر مشتمل وسیع و عریض خطہ ہے جوقدرتی وسائل سے مالا مال ہے، سنکیانگ آج چین کے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں توانائی کا شعبہ میں ترقی ہورہی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.