حکومت نے نواز شریف کے خلاف انتہائی قدم اٹھا لیا۔۔۔ برطانوی حکومت کو خط میں کیا کچھ لکھ کر بھیج دیا؟ (ن) لیگیوں کی چیخیں نکلوا دینے والی خبر

لندن(نیوز ڈیسک) پاکستان کے صوبہ پنجاب کی کابینہ نے چند روز قبل نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھاپاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان کو حوالگی سے متعلق برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ

ان کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کا بھی اعتراف کیا جس کے بعد انھیں مس کنڈکٹ کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ نے ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ اب نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر یکم ستمبر کو سماعت کرے گی۔ نواز شریف کے وکلا کا موقف ہے کہ جج نے دباؤ میں آ کر سزا سنائی تھی، جس کا انھوں نے بعد میں اعتراف بھی کر لیا۔شہزاد اکبر نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ نیب نے اب تک نواز شریف کی برطانیہ سے واپسی سے متعلق کیا قانونی کارروائی کی ہے تاہم ان کے مطابق برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ کے اس فیصلے کو بھی خط کے ساتھ بھیجا ہے جس کے تحت نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کی گئی ہے۔شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کوئی زیر التوا مقدمہ نہیں ہے بلکہ اس میں سابق وزیر اعظم کو عدالت کی طرف سے سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ انھوں نے طبی بنیادوں پر جو ضمانت حاصل کی تھی اس کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔ان کے مطابق قانون کی نظر میں اب نواز شریف کی حیثیت ایک مفرور کی ہے کیونکہ ان کی ضمانت عدالتوں اور حکومت سے بھی ختم ہو چکی ہے۔نواز شریف کی ضمانت کب اور کیسے مسترد ہوئی؟کومت کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 29 اکتوبر 2019 کو آٹھ ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی۔ اس فیصلے میں عدالت نے یہ شرط عائد کی تھی کہ اگر آٹھ ہفتوں میں علاج ممکن نہ ہو سکے تو پھر ایسے میں ضمانت میں مزید توسیع کے لیے وہ پنجاب حکومت سے درخواست کر سکتے ہیں۔

اس ضمانت کے بعد نواز شریف کے لیے دوسرا مرحلہ ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانا تھا۔ اس کے لیے نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ کا رخ کیا اور عدالت میں انڈرٹیکنگ دی کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔لاہور ہائی کورٹ نے 23 دسمبر 2019 کو شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلوا دیا۔ تاہم یہ نام اس وجہ سے چار ہفتوں کے لیے نکلوایا گیا کیونکہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ سے آٹھ ہفتوں کی ضمانت میں سے چار ہفتے گزر چکے تھے۔عدالتی فیصلوں کے بعد نواز شریف علاج کے لیے لندن چلے گئے۔ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کے وکلا نے ضمانت میں مزید توسیع کے لیے پنجاب حکومت کو درخواست دی، جس پر پنجاب حکومت نے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا۔ بورڈ نے نواز شریف کے وکلا سے ان کے علاج سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کیں۔بورڈ نے رواں برس 19، 20 اور 21 فروری کو نواز شریف کی درخواست پر غور کیا۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد نواز شریف کی ضمانت میں مزید توسیع سے متعلق درخواست مسترد کردی۔شہزاد اکبر کے مطابق بورڈ کو نواز شریف کے علاج کا کوئی ریکارڈ یا دستاویزات دی ہی نہیں گئیں کیونکہ لندن میں تو نواز شریف کو ایک ٹیکہ بھی نہیں لگا۔ان کے مطابق پنجاب حکومت نے میڈیکل بورڈ کا فیصلہ وفاقی وزارت انصاف، نیب اور پولیس کو بھی بھجوایا۔

وزیر اعظم عمران کے مشیر کے مطابق وزارت قانون نے میڈیکل بورڈ کا یہ فیصلہ وزارت خارجہ کو بھیج دیا اور یہ درخواست کی اس فیصلے سے متعلق حکومت برطانیہ کو بھی آگاہ کیا جائے، جس کے بعد حکومت نے ہائی کمشنر کے ذریعے خط اور فیصلہ برطانوی حکومت کو بھجوا دیا۔جواب کیا ملا؟ اس پر حکومتی وزرا اور ادارے ابھی تک خاموش ہیں۔سنیچر کو شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ ’مجرم لندن کی سڑکوں پر بڑے مزے سے گھوم پھر رہا ہے۔ انجوائے کر رہا ہے۔ یہ نظام انصاف کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔‘شہزاد اکبر نے کہا حکومت شہباز شریف سے بھی دریافت کرے گی کہ نواز شریف وطن واپس کیوں نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی حکومت اس حوالے سے سوچ بچار کر رہی کہ شہباز شریف کے ساتھ کیا کریں۔شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ان کی پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں ہے اس وجہ سے اب ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کے لیے حزب اختلاف حکومت سے این آر او پلس پلس کا مطالبہ کر رہی ہےان کے مطابق اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن میں نظریاتی اختلاف ہے۔ عمران خان کے مشیر کے مطابق اپوزیشن منی لانڈرنگ کو سنگین جرم نہیں سجھتی۔ حزب اختلاف یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ قانون سازی میں جہاں منی لانڈرنگ کا ذکر ہے تو وہاں سے نیب کا نام نکالا جائے۔شہزاد اکبر نے شریف خاندان اور آصف زرداری کے خلاف قائم مقدمات کو پاکستان کا گرے لسٹ میں جانے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق رمضان شوگر ملز، حدیبیہ ریفرنس اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان سے منی لانڈرنگ کی گئی۔شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ عمران خان اپوزیشن کو این آر او پلس پلس میں سے این بھی نہیں دیں گے جبکہ حکومت ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون پاس کرائے گی اور ہم یہ قانون ہر صورت پاس کرائیں گے۔ انھوں نے اپوزیشن سے کہا کہ آپ اگر اس میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس قانون سازی کے ذریعے اقوام عالم میں پاکستان کا مقام بحال کرائے گی۔مشیر اطلاعات شبلی فراز کے مطابق نواز شریف ’تصاویر میں ہشاش بشاش پھر رہے ہیں، کبھی شاپنگ کرتے ہیں کبھی واک پر جاتے ہیں کبھی کافی پینے کے لیے باہر جاتے ہیں‘نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کیا کہا تھاشہزاد اکبر کی پریس کانفرنس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے جمعے کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ نواز شریف نے ’قانون کا مذاق اڑایا، بیماری کو بہانا بنا کر ملک سے فرار اختیار کی۔۔۔ انھیں واپس آ کر جوابدہ ہونا چاہیے۔‘ان کے مطابق ’ہم نیب سے مطالبہ کریں گے کہ دفتر خارجہ کے ذریعے انگلینڈ کی حکومت سے کہہ کر انھیں (نواز شریف کو وطن) واپس بھیجا جائے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انھیں واپس لانا ضروری ہو گیا ہے۔‘تاہم مسلم لیگ نواز کی جانب سے بارہا اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ایسی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ حکومت اور نواز شریف کے درمیان علاج کے عوض بیرون ملک روانگی کے

حوالے سے کی گئی مبینہ ڈیل ’ختم ہو گئی ہے۔‘سابق وزیر اعظم کی واپسی کے لیے کوششوں میں تیزی؟یہ پہلی بار نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کے لیے کوششیں کی ہوں یا بیانات دیے ہوں۔مارچ 2020 کے دوران سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ ’علاج کے غرض سے پاکستان سے برطانیہ جانے والے وی آئی پی قیدی میاں محمد نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کا وقت آچکا ہے’اس لیے وفاقی حکومت برطانوی حکومت کو یہ خط لکھنے جا رہی ہے کہ ان کو برطانیہ سے جلا وطن کیا جائے۔‘ تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔مشیر اطلاعات شبلی فراز نے اپنی جمعے کی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ’حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ان لوگوں کو لایا جائے جو قانون کو طلب ہیں۔۔۔ ہماری کوششیں اور تیز ہوگئی ہیں اور ہم نواز شریف صاحب کو واپس لائیں گے۔نواز شریف) تصاویر میں ہشاش بشاش پھر رہے ہیں، کبھی شاپنگ کرتے ہیں کبھی واک پر جاتے ہیں کبھی کافی پینے کے لیے باہر جاتے ہیں۔ جبکہ عوام ان کے دیے تحفوں کی وجہ سے تکلیف میں ہیں۔‘نواز شریف کی صاحبزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز سیاستدان ہیں تو میں بھی بہت بڑا شاعر ہوں۔۔۔ نیب نے انھیں سوالات کے جواب کے لیے بلایا تھا لیکن انھوں نے ڈرامہ رچایا اور نیب پر پتھراؤ کیا۔‘وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت میں کہا ہے کہ ’تحریک انصاف کے بیانیے اور احتساب کے عمل کو نواز شریف کی لندن روانگی نے شدید دھچکہ دیا، جعلی رپورٹس کی تیاری میں جن لوگوں کا کردار ہے ان کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔‘فواد چوہدری کی جانب سے ’جعلی رپورٹس‘ کے حوالے سے کیے گئے دعوے کے بارے میں جب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان سے مؤقف مانگا گیا تو انھوں نے اس حوالے سے بات کرنے اس انکار کر دیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.