عرب و خلیجی ممالک کی تیل کی دولت کیا چیز ہے ، ترکی کو قدرت نے ایسے بڑے خزانے سے نواز دیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی ، طیب اردگان کا ٹی وی پر آکر بڑا اعلان

انقرہ (نیوز ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے حال ہی میں بحیرہ اسود میں ترک ساحل کے قریب قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2023 تک ترکی وہاں سے گیس نکال کر استعمال کرنا شروع کر دے گا۔ترک خبر ایجنسی کے مطابق

صدر اردوغان نے استنبول کے تاریخی دولماباغچہ محل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ترکی کے گیس کی تلاش کرنے والے جہاز فاتح نے بحیرہ اسود میں 11.3 کھرب کیوبک فٹ قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کرلیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ترکی کی تاریخ میں قدرتی گیس کی سب سے بڑی دریافت ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ اسود کے اطراف کے خطے میں قدرتی گیس ملنے کے بہت امکانات تھے اور یہ گیس عام شہریوں کے استعمال کے لیے 2023 میں دستیاب ہو گی۔ یاد رہے کہ بحیرہ روم میں ترکی کی جانب سے گیس اور تیل کے تلاش کے کام پر یونان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی افواج کو الرٹ رہنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔ترک صدر نے کہا کہ بحیرہ اسود کے قریبی صوبے میں گیس دریافت ہونے والے علاقے میں ٹیونا ون ذخیرے کی ٹیسٹنگ، جائزہ اور انجینیئرنگ تحقیق کے تمام مراحل مکمل کرلیے گئے ہیں اور اب اس منصوبے کو سکاریا گیس فیلڈ کا نیا نام دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘پہلے مرحلے میں دریافت ہونے والے ذخائر کا یہ واحد خطہ ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور امید ہے کہ ترکی کو بحیرہ روم سے بھی مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ انھوں نے گیس اور تیل کے مزید ذخائر کی تلاش جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فاتح اور یوریز ڈرلنگ جہازوں نے بحیرہ اسود اور بحیرہ روم میں گہرے پانی میں نو مقامات پر ڈرلنگ کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے ملک کے توانائی کے مسئلہ کو

مکمل طور پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔’ بحری جہاز فاتح سے لائیو لنک کے ذریعے ترکی کے وزیر خزانہ بیرت البائرک نے ان ذخائر کی دریافت کو ترکی کے لیے ایک ‘نئے دور کا آغاز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترکی کی معیشت مستحکم ہو گی۔انقرہ پہلے ہی مشرقی بحیرہ روم میں توانائی کے ذخائر کی تلاش کی کوششوں میں مصروف ہے جس نے حال ہی میں یونان کے ساتھ کشیدگی پیدا کی ہے ۔ واضح رہے کہ یونان اور مصر کی جانب سے حدود بندی کے متنازع معاہدے کے بعد گزشتہ ہفتے ہی ترکی نے مشرقی بحیرہ روم میں تیل کی تلاش کا کام شروع کردیا تھا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ، خطے میں لیونٹ طاس میں 3.5 ٹریلین مکعب میٹر قدرتی گیس اور 1.7 بلین بیرل تیل کا ذخیرہ ہے۔ ترکی کے ماہرین نے بحیرہ اسود کے قدرتی گیس کے ذخائر کی دریافت کو ملک کی معیشت کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔ ترکی کے ایک نجی نیوز ٹی وی چینل این ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ ترکی میں موجودہ سالانہ قدرتی گیس کی کھپت لگ بھگ 44.9 بلین مکعب میٹر ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دریافت سے ملک کی توانائی کی تقریباً سات سال کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔ ترکی کی انرجی اکانومی ایسوسی ایشن کے چیرمین پروفیسر گورکن کمباروگلو نے این ٹی وی کو بتایا ‘ تین سال میں گیس کا استعمال شروع کرنا حقیقت پسندانہ ہے۔۔۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ مزید بھی ذخائر دریافت کیے جائیں گے۔ جبکہ حکومت کے حمایتی نیوز چینل اے حابر سے بات کرتے ہوئے ترکی کے ماہر معیشت ابوزر پنار نے کہا کہ ترکی فی الحال اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات درآمد کرتا ہے، لہذا اس دریافت سے ملکی معیشت میں بہتری ہوگی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے’ پر مثبت اثر پڑے گا۔ تاہم توانائی کے تجزیہ کار اوزگور گربوز نے سعودی مالی اعانت سے چلنے والی آزاد ترک نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ دریافت کردہ قدرتی گیس کے ذخائر کی مقدار اتنی زیادہ نہیں کہ اسے درآمد کیا جا سکے یا اس سے کرنٹ اکاونٹ پر کچھ مثبت فرق پڑے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.