بریکنگ نیوز: سانحہ آرمی پبلک سکول کی تحقیقات میں نیا موڑ ۔۔۔ میجر سمیت 5 اہلکاروں کو بر طرف کردیا گیا، افسوسناک سانحہ میں ان کا کیا کردار تھا؟ ہوش اڑا دینے والی تفصیلات سامنے آ گئیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سانحہ اے پی ایس کے بعد پاک فوج کی محکمہ انکوائری کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔برگیڈئیر سمیت 15 افسروں اور اہلکاروں کے خلاف کی گئی۔رپورٹ کے مطابق فوج کی کورٹ آف انکوائری نے تحقیقات کے بعد کاروائی کی۔میجر سمیت 5 اہلکاروں کو فوج سے برطرف کر دیا گیا۔

۔سانحہ اے پی ایس پر بننے والی جوڈیشل انکوائری کمیشن نے سانحے کی رپورٹ پبلک کردی ہے، جس میں سانحہ اے پی ایس کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دے دیا گیا ہے، رپورٹ میں کمیشن نے اسکول کی سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ وارننگز کے باوجود سیکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی بھی نقصان کا سبب بنی، غفلت کا مظاہرہ کرنے والی یونٹ کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کو سزائیں بھی دی گئیں۔ارپورٹ میں بتایا گیا کہ بلاسٹ اور شدید میں گولیوں کی بوچھاڑ سے سکیورٹی گارڈز جمود کا شکار تھے،ٹیرارسٹ اسکول کے عقب سے بغیر کسی مزاحمت داخل ہوئے، اگر سیکیورٹی گارڈز مزاحمت کرتے تو شاید جانی نقصان اتنا نہ ہوتا، غداری سے سیکیورٹی پر سمجھوتہ ہوا اور ٹیرارزم کا منصوبہ کامیاب ہوا۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے ٹیرارسٹ ممکنہ طور پر مہاجرین کے روپ میں داخل ہوئے، اور ٹیرارسٹ کو مقامی افراد کی طرف سے سہولت کاری ملی جو ناقابل معافی ہے، اپنا ہی خون غداری کر جائے تو نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں، کوئی ایجنسی ایسے اٹیکس کا تدارک نہیں کر سکتی بالخصوص جب مخالف اندر سے ہو۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گشت پر مامور سکیورٹی اہلکار ٹیرارسٹ کی جانب سے جلائی گئی گاڑی کی جانب چلے گئے، آگ سیکیورٹی اہلکاروں کو دھوکہ دینے کیلئے لگائی تھی، اور پھر گشت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کی دوسری گاڑی نے پہنچ کر ٹیرارسٹ کا مقابلہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نیکٹا نے عسکری مراکز، حکام اور انکی فیملیز پراٹیک کا عمومی الرٹ جاری کیا، نیکٹا الرٹ کے بعد فوج نے ٹیرارسٹ کیخلاف کارروائیاں شروع کیں، لیکن سانحہ اے پی ایس نے فوج کی کامیابیوں کو پس پشت ڈالا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول سے متعلق جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے اوراٹارنی جنرل کے رپورٹ پرکمنٹس کو بھی پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.